میں اپریل 2024 کو ریٹائر ہوا ہوں۔ مجھے واجبات مئی اور جون میں ملے ہیں۔ رقم کی کمی کی وجہ سے ذاتی مکان نہیں لے سکا اور کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہوں۔ کیا اس رقم پر زکوٰۃ بنتی ہے، راہنمائی فرمائیں ۔
سائل اگر پہلے سے صاحب نصاب اور اس کی ادائیگی زکوۃ کی تاریخ متعین ہو، اور ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم بھی ادائیگی زکوۃ کی تاریخ کو اس کے پاس موجود رہے، تو دیگر اموال زکوۃ کی طرح اس رقم پر بھی زکوۃ لازم ہوگی،اور اگر وہ پہلے سے صاحب نصاب نہ ہو بلکہ اس رقم کے ملنے کی وجہ سے صاحب نصاب بن رہا ہو، تو فی الوقت چونکہ اس رقم پر قمری سال مکمل نہیں ہوا، اس لئے ابھی اس پر زکوۃ لازم نہ ہوگی، البتہ قمری سال مکمل ہونے کی صورت میں اگر یہ رقم بقدر نصاب یا اس سے زائد موجود رہی تو اس پر ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
کما فی الدر المختار: (والمستفاد) ولو بهبة أو إرث (وسط الحول يضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل اھ (2 / 288)
وفی الھندیة: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع."(كتاب الزكاة، ج1، ص175، رشيديه)