محترم علماء کرام! السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں اپنی زکوٰۃ کے حساب کے بارے میں رہنمائی لینا چاہتا ہوں تاکہ میں اسے حنفی فقہ کے مطابق درست طریقے سے ادا کر سکوں۔
میری دولت کی تفصیلات:
1. سونا: 52 تولہ (تقریباً 606.53 گرام)
2. فی تولہ سونے کی قیمت: 307,000 روپے
3. کل سونے کی مالیت: 15,964,000 روپے
4. کل نقدی (بینک اور ہاتھ میں موجود رقم): 96,728,640 روپے
5. نئی رقم (دو ماہ پہلے موصول ہوئی): 23,817,928 روپے (یہ کل نقدی 96,728,640 روپے میں شامل ہے)
مزید وضاحت:
میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں اور میں نے 16 سال سے زائد عرصہ سعودی عرب میں کام کیا۔ حال ہی میں مجھے اپنی کمپنی سے ریٹائرمنٹ کے بعد واجبات (End of Service Benefits) ملے، جو کہ 23,817,928 روپے ہیں۔ چونکہ یہ رقم مجھے صرف دو ماہ پہلے ملی ہے، اس لیے میں الجھن کا شکار ہوں کہ آیا اس پر زکوٰۃ اس سال واجب ہوگی یا نہیں؟
میرا سوال:
• مجھے زکوٰۃ کا حساب حنفی فقہ کے مطابق درکار ہے، اور رقم 23,817,928 روپے کل نقدی 96,728,640 روپے میں شامل ہے۔
• کیا مجھے پوری نقدی پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، یا وہ رقم جو صرف دو ماہ پہلے ملی ہے، اس پر اس سال زکوٰۃ لاگو نہیں ہوگی؟
• ریٹائرمنٹ کے واجبات پر زکوٰۃ ادا کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس پر بھی ایک سال گزرنا ضروری ہے، یا اسے دوسرے اثاثوں کے ساتھ شامل کر کے فوراً زکوٰۃ نکالی جائے؟
براہ مہربانی میری مکمل رہنمائی فرمائیں تاکہ میں زکوٰۃ کی صحیح اور شریعت کے مطابق ادائیگی کر سکوں۔جزاکم اللہ خیراً !
سائل چونکہ پہلے سے صاحب نصاب ہے اس لئے ریٹائرمنٹ پر ملنے والی رقم پر الگ سے سال گزرنا ضروری نہیں ،بلکہ واجب الاداء رقم اور قرض وغیرہ منہا کرنے کے بعد ریٹائر منٹ پر ملنے والی رقم سمیت تمام رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی فتاوی الھندیۃ: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع اهـ (ج:1 ص:175 ط۔رشیدیہ)-