زکوۃ و نصاب زکوۃ

ماہوار خرچ کیلئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
81646
| تاریخ :
2025-02-24
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ماہوار خرچ کیلئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ لازم ہوگی؟

ایک سال قبل میری کمپنی نے میری ملازمت ختم کر دی تھی، تاہم کمپنی نے ملازمت ختم کرتے وقت مجھے کچھ اضافی رقم دی تھی۔ اب تک مجھے کوئی دوسری نوکری نہیں ملی، اور اسی رقم سے میرا گزارہ چل رہا ہے۔ کیا اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ یہ میری ضرورت ہے اور ملازمت کا متبادل ہے، اس لیے شاید زکوٰۃ لازم نہ ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نقدی بھی اموالِ زکوٰۃ میں سے ہے اور اموالِ زکوٰۃ میں ضرورت کا اعتبار نہیں،بلکہ بقدرِ نصاب ہونے کی صورت میں بہر صورت سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوتی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی ملکیت میں موجود رقم اگر بقدرِنصاب ہو،یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہو تو قمری سال گزرنے پرڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنا سائل پر لازم ہے، اگرچہ یہ رقم سائل کی ضرورت کے لیے مختص ہو۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81646کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات