زکوۃ و نصاب زکوۃ

ایڈوانس تنخواہ پر زکوۃ کی دینے کا حکم

فتوی نمبر :
81466
| تاریخ :
2025-02-17
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ایڈوانس تنخواہ پر زکوۃ کی دینے کا حکم

مجھے نو ماہ كی ایڈوانس تنخواہ کی مد میں 11لاکھ روپیہ پچیس فروری 2025کو مل رہے ہیں، تو کیا اس رقم کے اوپر مجھے اس رمضان سے پہلے پہلے زکاة دینی ہوگی؟ رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اس بات کی صراحت نہیں کی کہ اسے ملنے والی ایڈوانس تنخواہ متعلقہ محکمے میں اس کے جمع شدہ جی پی فنڈ سے دی جارہی ہے یا اس محکمے کے توسط سے کوئی بینک یا ادارہ بطور قرض دے رہاہے جیسا کہ بعض اداروں میں یہ مروج ہے، تاکہ اسی کے مطابق دیاجاتا، تاہم اگر یہ رقم ایڈوانس تنخواہ کے نام سے بطور قرض دی جارہی ہو، تو چونکہ یہ رقم اصالۃ سائل کے ذمہ قرض ہوگی، اس لئے ادائیگی زکوۃ کے وقت اس رقم پر زکوۃ لازم نہ ہوگی، ورنہ اس کی مکمل تفصیل ذکر کرکے مکرر معلوم کرنے پر حکم شرعی سے اگاہ کیاجاسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة۔(كتاب الزكاة، ج:3، ص:221 ط: دارالمعرفة بیروت)
وفیه ایضا:(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة۔۔۔ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا۔(كتاب الزكاة، ج:3، ص:210، ط: دارالمعرفة بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81466کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات