محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو تقریباً دس سال کا عرصہ ہوچکا ہے، میرے شوہر کا پہلے اپنے گھر والوں سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا اور جو کچھ تھا وہ شادی کے بعد انہوں نے ختم کردیا، میرے شوہر کا گھر بھی نہیں تھا،لہذا میں اپنے والد کے گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی،شادی کے چار سال بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا،ہم لوگ وہاں گئے،اس دن کے بعد سے میرے شوہر مجھے بتائے بغیر اپنے بڑے بھائی،بھابھی کے گھر جانے لگے،وہ اس طرح سے کئی کئی دن گھر سے غائب ہوجاتے تھے، میرے گھر والوں نے کئی مرتبہ انہیں وہاں سے پکڑا ہے،کئی کئی ماہ غائب ہوجانے کے بعد معافی مانگ لیتے تھے،ایک مرتبہ سات مہینے کیلئے چلے گئے تو میں نے قریبی مسجد سے فتویٰ لیا،جس میں انہوں نے بتایا کہ میرے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑا،لیکن اس مرتبہ 10مارچ کو پورے دو سال ہوجائیں گے۔
شادی کے اس عرصے میں میرے چار بچے ہیں،تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، اس عرصے میں میرے شوہر نے مجھ سے کوئی بھی رابطہ نہیں کیا،مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں،میں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی،لیکن مجھے ان کا کہیں سے بھی پتہ نہیں چلا، ان کے بہن بھائی اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے ہیں، ڈھونڈنے بھی گئی،مجھے کچھ پتہ نہ چلا، اس دوران میں نہ کوئی خرچہ اور نہ کوئی رابطہ ہوا، میں بالکل بے خبر ہوں،اس سے پہلے بھی جب کبھی گئے تو نہ رابطہ رکھتے تھے اور نہ کوئی خرچہ بھیجتے تھے، میں بے یارو مددگار ہوں،والد کے گھر میں رہتی ہوں،جاب کرتی ہوں،والدین بھی حیات نہیں ہیں، نہ کوئی ذمہ دار ہے۔
اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق اس مسئلے میں میرے کیا حقوق ہیں،کیونکہ اب میں اس شخص سے تنگ ہوچکی ہوں،اور علیحدگی چاہتی ہوں۔
مذکورہ صورت میں سائلہ کیلئے اصل حکم یہ ہے کہ اگر وہ صبر کرکے اپنا زمانہ عفت اور پاکدامنی کے ساتھ گزار سکے تو بہتر ہے،اگر صبر نہ کرسکے تو بوقتِ ضرورتِ شدیدہ(کہ خرچ وغیرہ کا انتظام نہ ہو سکے یا بلاشوہر کے رہنے میں مبتلائے معصیت ہونے کا شدید خطرہ ہو) یہ گنجائش ہے کہ صورتِ ذیل اختیار کرکے مذکور غائب کے نکاح سے رہائی حاصل کرے-
وہ صورت یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم(جج) کی عدالت میں پیش کرے اور شہادتِ شرعیہ کے ذریعہ ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، اس کے بعد گواہوں سے اس کا مفقود اور لاپتہ ہونا ثابت کرے،اس کے بعد جج خود اپنے طور پر مفقود کی تلاش وتفتیش کرے، جہاں جہاں مفقود کے جانے کا غالبِ گمان ہو،وہاں آدمی بھیجا جائے اور جس جس جگہ جانے کا غالبِ گمان نہ ہو،صرف احتمال ہو،وہاں اگر صرف خط کو کافی سمجھے تو خطوط بھیج کر تحقیق کرے اور اخبارات میں خبر شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے۔
الغرض تفتیش وتلاش میں پوری کوشش اور جہد کرے اور جب تلاش کے بعد مفقود کا پتہ چلنے سے مایوسی ہوجائے تو عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم کرے،پھر ان چار سالوں کے اندر بھی مفقود کا پتہ نہ چلے تو عورت حاکم کے پاس دوبارہ درخواست دائر کرے،جس پر حاکم اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے،اس کے بعد چار ماہ دس دن عدتِ وفات گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔
اور اگر عورت عدالت میں زنا کا شدید خطرہ ظاہر کرے اور اس نے ایک عرصہ دراز تک مفقود کا انتظار کرنے کے بعد مجبور ہوکر اس حالت میں درخواست دی ہو،جبکہ وہ صبر سے عاجز آگئی ہو تو اس صورت میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ ایک سال کے انتظار کے بعد تفریق کردی جائے اور صورتِ مسئولہ میں یہ تفریق طلاقِ بائن کہلائے گی۔
اس کے بعد واضح ہوکہ حاکم کے پاس جانے سے قبل جو عرصہ گزار دیا، اس کا اعتبار نہ ہوگا، نیز عورت حاکم کے فیصلہ کے بغیر خود بخود شوہرِ سابق کے نکاح سے علیحدہ نہیں ہوسکتی اور حاکم کے پاس جب درخواست دے تو حاکم پوری تحقیق کرے اور خود بھی تلاش کرے،اسے انتظار کی مہلت دے،پھر مہلت کی مدت ختم ہوجانے پر مذکورہ بالا طریقہ اختیار کرے۔
کما فی فتح القدیر: وتکون الفرقة تطلیقة بائنة عند ابی حنیفة ومحمد۔رحمھما اللہ۔لان فعل القاضی انتسب الیه کما فی العنین اھ(4/119)۔
وفی الحیلة الناجزة: طریق تطلیق زوجة المفقود او الغائب الذی تعذر الارسال الیه او ارسل الیه فتعاند ان کان لعدم النفقة فان الزوجیة تثبت بشاھدین ان فلاناً زوجھا وغاب عنھا ولم یترك لھا النفقة ولا وکیلاً بھا ولا اسقطتھا عنه وتحلف علیٰ ذلك فیقول الحاکم فسخت نکاحه (الیٰ قوله)وان کان لخوفھا الزنا
وتضررھا بعدم الوطی مع وجود النفقة والغنا فبعد صبرھا سنة عند المالکیة وبعد ستة اشھر عند الحنابلة اھ(ص/124)۔