زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیچنے کی نیت سے خریدی ہوئی دکان میں نیت بدلنے سے زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
80112
| تاریخ :
2024-12-22
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیچنے کی نیت سے خریدی ہوئی دکان میں نیت بدلنے سے زکوۃ کا حکم

السلام علیکم! جی میرا سوال یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگر کسی نے کوئی دکان خریدی ہو قسطوں پر دو سال پہلے اور ان کی نیت یہ تھی کہ اس کو سیل کر دیں گے اور اس پر جو زکوۃ بنتی تھی اس میں سے کچھ ہی رقم ادا کی تھی تو بعد میں ان کی نیت بدل گئی تو انہوں نے زکوۃ پوری ادا نہیں کی کیونکہ جب ان کی نیت بدل گئی کہ ہم اس کو کرائے پر لگائیں گے یا سیل کر دیں گے لیکن زیادہ نیت یہی تھی کہ اس کو کرائے پر لگائیں گے لیکن بیچنے کا بھی انہوں نے سوچا ہوا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے ۔ اور یہ بھی بتا دیجئے گا کہ دو سال پہلے نیت بدلنے کی وجہ سے زکوۃ پوری ادا نہیں کی تھی تو اس کا کیا حکم ہے کیونکہ اس وقت اتنا علم نہیں تھا ان کو تو انہوں نے زکوۃ اس پر ادا نہیں کی ۔ اور اس پر زکوۃ کہ کیا شرعی احکام ہوں گے کیونکہ نہ تو یہ دکان کرائے پر لگ رہی ہے اور نہ ہی سیل ہو رہی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں ایسے شخص پر قمری سال پورا ہونے کے بعد اس دکان کی مارکیٹ ویلیو کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوۃ نکالنا لازم ہوگا،چنانچہ اگر اس شخص نے گزرے ہوئے کئی سالوں کی زکوۃ ادا نہ کی ہو،تو ان گزرے ہوئے سالوں کی زکوۃ بھی اس پر لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فى رد المحتار: تحت (قوله لايبقى للتجارة ما) أى عبد مثلاً (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لايصير للتجارة) و إن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. و الفرق أن التجارة عمل فلاتتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها (قوله: أى عبد) خصه بالذكر ليناسب قوله فنوى خدمته، و أشار بقوله مثلا إلى أن العبد غير قيد، لكن الأولى أن يقول بعده فنوى استعماله ليعم مثل الثوب و الدابة، و لا بد من تخصيصه بما تصح فيه نية التجارة ليخرج ما لو اشترى أرضا خراجية، أو عشرية ليتجر فيها فإنها لا تجب زكاة التجارة كما يأتى و نبه عليه فى الفتح، (قوله: فنوى بعد ذلك خدمته) أى، و أن لايبقى للتجارة لما فى الخانية عبد التجارة: إذا أراد أن يستخدمه سنتين فاستخدمه فهو للتجارة على حاله إلا أن ينوى أن يخرجه من التجارة و يجعله للخدمة. اهـ. (قوله: ما لم يبعه) أى أو يؤجره كما فى النهر و غيره، و بدله من قسم الدين الوسط فيعتبر ما مضى أو يعتبر الحول بعد قبضه على الخلاف الآتى فى بيان أقسام الديون (قوله: بجنس ما فيه الزكاة) فلو دفعه لامرأته فى مهرها أو دفعه بصلح عن قود أو دفعته لخلع زوجها لا زكاة لأن هذه الأشياء لم تكن جنس ما فيه الزكاة ط (قوله: و الفرق) أى بين التجارة حيث لاتتحقق بالفعل و بين عدمها. بأن نواه للخدمة حيث تحقق بمجرد النية ط (قوله: فيتم بها) لأن التروك كلها يكتفى فيها بالنية ط. و نظير ذلك المقيم و الصائم و الكافر و العلوفة السائمة، حيث لايكون مسافرًا و لا مفطرًا و لا مسلمًا و لا سائمةً و لا علوفةً بمجرد النية و تثبت أضدادها بمجرد النية زيلعي، لكن صرح فى النهاية و الفتح بأن العلوفة لاتصير سائمةً بمجرد النية بخلاف العكس. و وفق فى البحر بحمل الأول على ما إذا نوى أن تكون السائمة علوفةً، و هى باقية فى المرعى إذ لا بد من العمل، و هو إخراجها من المرعى لا العلف، و حمل الثانى على ما إذا نوى بعد إخراجها منه إلخ۔ (كتاب الزكوة، ج: 2، ص: 272، ط:سعید)۔
و فى فتح القدير: و من اشترى جارية للتجارة و نواها للخدمة بطلت عنها الزكاة لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة)؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر إلخ۔( ج: 2،ص: 178، ط: دار الکتب العلمیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80112کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات