احکام وراثت

کیا بجلی کا بل وراثت میں شامل کر کے منہا کیا جائے گا

فتوی نمبر :
79957
| تاریخ :
2024-12-14
عبادات / جنائز / احکام وراثت

کیا بجلی کا بل وراثت میں شامل کر کے منہا کیا جائے گا

میرے والد محمد بشیر مرحوم کا ایک مکان تھا 80 گز کا ،اور ہم چار بھائی بہن ہیں جس میں دو بیٹی اور دو بیٹے چاروں شادی شدہ ہیں، بھائی ساتھ رہتے تھے، آپس میں تنازعات کی وجہ سے مکان کو دو حصوں میں کر دیا گیا لیکن دو حصے کرنے میں جو بھی خرچہ ایا تقریبا 50,000 وہ محمد شاہد نے کیا، مکان بکنے کی صورت میں کیا یہ رقم محمد شاہد کو ملے گی؟
دوسری بات میرے والد اور والدہ پر 100,000 کا قرضہ تھا جو ہم تین بھائی بہنوں نے اپنے حصے میں سے 25 ہزار کر کے ادا کیا لیکن ایک بہن نے ادا نہیں کیا، جب کہا تم بھی ادا کرو تو اس نے انکار کر دیا، بڑی مہربانی ہوگی آپ شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل بتائیں۔
میرے والد محمد بشیر کے انتقال کے وقت بجلی کا بل0 160,00 روپے تھے، ہم دونوں بھائی ہر مہینے بجلی کا بل بھر دیا کرتے تھے، لیکن مکان فروخت ہونے سے تین مہینے پہلے اچانک 240,000 کا بل آگیا، میں نے بہت کوشش کی کہ یہ ناجائز بل ہے لیکن K الیکٹرک والے ماننے کو تیار نہیں تھے، اور افسر کہتے رہے بھرنا ہوگا اور جب مکان فروخت ہوا تو ہم نے 240,000 ادا کر دیا لیکن میری ایک بہن کہتی ہے مجھے بجلی کے بل سے کوئی مقصد نہیں، مجھے بجلی کے بل میں سے پیسے ادا کرو، جناب اعلی مجھے اس مسئلے کا حل بھی شریعت کے مطابق بتائیں، عین نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں اگر سائل نے والد کے مکان کو دو حصوں کو اپنے بھائی کے ساتھ تقسیم کرتے وقت اس تقسیم پر خرچ ہونے والی رقم مبلغ 50000 روپے اپنے بھائی کے علم میں لا کر دونوں کی مشترکہ مفاد میں خرچ کیے ہوں تو اس میں 25 ہزار روپے اس کے بھائی کے ذمہ قرض ہوں گے ورنہ بھائی کے اجازت و رضامندی کے بغیر ذاتی مفاد کے لیے خرچ کرنے کی صورت میں اس رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہ ہو گا، البتہ اس رقم کے ذریعے اگر دیوار وغیرہ بنائی گئی ہو تو دیگر ورثاء کی اجازت و رضامندی سے اس کے ملبہ کی موجودہ قیمت وصول کرنے کی اجازت ہوگی ورنہ سائل کو اس ملبہ کو ہٹانے کا اختیار ہوگا۔جبکہ والدین کے ذمہ واجب الادا قرض مبلغ ایک لاکھ روپے تقسیم ترکہ سے قبل منہا کرنا لازم تھا ،تاہم اگر اس قرض میں سے تین بہن بھائیوں نے ذاتی رقم سے 25،25 ہزار ادا کر دیے ہیں تو مکان فروخت ہونے کی صورت میں یہ تین بہن بھائی اپنے حصہ کی پوری رقم وصول کریں گے اور جس بہن نے یہ رقم ادا نہیں کی اس کے حصہ میراث میں سے 25 ہزار روپے منہا کر کے اس قرض کی ادائیگی کر دی جائے ،اسی طرح والد مرحوم کے انتقال تک اگر اس مکان کو بھائی اور والدین مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تک واجب الادا بل کی ادائیگی ترکہ تقسیم سے قبل ہوگی، تاہم اس کے بعد بھائیوں کے ذاتی استعمال کی وجہ سے واجب الادا بلوں کی ادائیگی ان بھائیوں کے ذمہ لازم ہوگی،اسے مشترکہ میراث سے منہا کرنا جائز نہیں، لہذا بھائیوں نے والد مرحوم کی زندگی میں واجب الادا میں جس قدر رقم ذاتی طور پر ادا کر دی ہے اگر وہ دیگر ورثاء کے ساتھ بطور تبرع و احسان نہ دیے، تو اب ترکہ کے مشترکہ رقم سے بل کی مد میں ادا کردہ رقم مبلغ 240000 میں ذاتی ادا کردہ رقم منہا کر کے بقیہ رقم تمام ورثاء کے درمیان اصول میراث کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی صحیح البخاري: (عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة ليصلي عليها، فقال: "هل عليه من دين؟" قالوا: لا، فصلى عليه. ثم أتي بجنازة أخرى، فقال: "هل عليه من دين؟" قالوا: نعم، قال: "صلوا على صاحبكم) (رقم الحدیث: 2295)۔
وفی سنن ابن ماجہ: (حدثنا ابو مروان العثماني ، حدثنا إبراهيم بن سعد ، عن ابيه ، عن عمر بن ابي سلمة ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه)۔ (رقم الحدیث: 2413)۔
وفی رد المحتار: لا يحلّ لأحد الشّركاء أن ينفرد بالمنفعة، فإن فعل ضمن نصيب الآخر الخ۔ (رد المحتار، ج: 4، ص: 348، ط: دار الفكر)۔
وفی رد المحتار: فلو سكن أحدهما الدّار دون الآخر بغير إذنه، لزمه أجرة مثل نصيب صاحبه الخ۔ (رد المحتار، ج: 6، ص: 434، ط: دار الفكر)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79957کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا بجلی کا بل وراثت میں شامل کر کے منہا کیا جائے گا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات