(1) کسی کو فصل لگانے کےلیے ٹھیکہ پر زمین دینا حلال ہے یا حرام؟ (2) کیا زمین میں تمباکو کی فصل لگانا حرام ہے یا نہیں ؟
زمین کو مخصوص و متعین اجرت کے عوض ٹھیکہ پر دینا جائز ہے، اسی طرح زمین میں تمباکو کی کاشت کرنا بھی فی نفسہ شرعاً جائز ہے ۔
کما فی صحیح البخاری: عن أبی ھریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من کانت لہ أرض فلیزرعھا أو لیمنحھا فإن لم یفعل فلیمسک أرضہ ( باب ما کان أصحاب النبی ﷺ یواسی بعضھم بعضا ج:2،ص:1118،ط:بشری)۔
و فیہ أیضا: عن إبن عمر ؓ عامل النبیﷺ خیبر بشطر ما یخرج منھا من ثمر أو زرع ( باب إذا لم یشترط السنین فی المزارعۃ ج:2،ص: 1113،ط: بشری)۔
و فی الدر المختار: (و) تصح إجارۃ (أرض للزراعۃ مع بیان ما یزرع فیھا أو قال علی أن أزرع فیھا ما أشاء ) کی لا تقع المنازعۃ الخ ( کتاب الإجارۃ باب ما یجوز من الإجارۃ و ما یکون خلافا فیھا ج:6،ص:29،ط:سعید)۔
و فیہ أیضا: و ( بشرط الشرکۃ الخارج) ثم فرع علی الأخیر بقولہ ( فتبطل إن شرط لأحدھما قفزان مسماۃ أو ما یخرج من موضع معین الخ ( کتاب المزارعۃ ج:6،ص:276،ط:سعید)۔
و فیہ أیضا: و فی الأشباہ قاعدۃ: ألأصل ألإباحۃ أو التوقف و ظھر أثرہ فیما أشکل حالہ کاالحیوان المشکل أمرہ و النباتات المجھول سمعتہ قلت فیفھم منہ حکم النبات ألذی شاع فی زماننا المسمی بالتتن فتنبہ الخ۔
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ ألاصل ألإباحۃ أو التوقف ) المختار الأول عند الجمھور من الحنفیۃ و الشافعیۃ کما صرح بہ المحقق ابن ھمام فی تحریر الأصول ( قولہ فیفھم منہ حکم النبات ) و ھو الإباحۃ علی المختار أو التوقف و فیہ إشارۃ إلی عدم التسلیم إسکارہ و تفتیرہ و إضرارہ و إلا لم یصرح إدخالہ تحت القاعدۃ المذکور و لذا أمر بالتنبہ الخ ( کتاب الأشربۃ ج:6،ص:460،ط:سعید)۔
و فیہ أیضا: و الحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الإنتفاع مجتبی الخ (باب البیع الفاسد ج:5،ص:69،ط: سعید)۔
صرف زمین ایک کی طرف سے ہو اور فصل کا ایک چوتھائی اس کے لئے طے ہوا ہو تو کیا اس پر چوتھائی اخراجات ڈالنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ زراعت 0