زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیٹے کی شادی کے موقع پر بنائے گئے زیورات کی زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
78126
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیٹے کی شادی کے موقع پر بنائے گئے زیورات کی زکوۃ کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شادی کے وقت ماں باپ نے زیور یہ کہہ کر بنوائے تھے کہ یہ ہمارے بیٹے کی ملکیت ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں زیورات کے مالک ماں باپ ہیں ، یا بیٹا ؟ اور ان زیورات کی زکاۃ کون ادا کرے گا ؟
شرعی رو سے باحوالہ جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ والدین نے اپنے بیٹے کو مذکور زیورات باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالے بھی کیے تھے یا فقط اس کے نام کیے تھے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم صورتِ مسؤلہ میں والدین نے اگر مذکور زیورات اپنے بیٹے کے فقط نام کیے ہوں ، باقاعدہ مالکانہ حقوق کیساتھ اس کے قبضے میں نہ دیے ہوں ،تو ایسی صورت میں مذکور زیورات بدستور والدین کی ہی ملکیت ہیں ،جن کی زکوۃ ادا کرنا بھی شرعاً انہی کے ذمہ لازم ہوگا ، البتہ اگرسوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل وضاحت کیساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کر دیں ، ان شاء اللہ اس پر مکرر غور کرکے دوبارہ جواب دےدیا جائے گا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/690)۔
وفی رد المحتار:قال فی شرح التنویر: و شرائط صحتہا (فی الموہوب) ان یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول اھ (5/488)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 78126کی تصدیق کریں
| | |
0     605
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات