زکوۃ و نصاب زکوۃ

حکومت کو ٹیکس دینےسے زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
76947
| تاریخ :
2024-07-30
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

حکومت کو ٹیکس دینےسے زکوۃ کا حکم


السلام علیکم !میرا نام نبیلہ آصف ہے میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر پہلےتو میرے زیورات پر زکوٰۃ دیتے تھے ،لیکن ایک دو سال سے کہتے ہیں پوری زکوٰۃ ادا نہیں کر سکتا وہ کہتے ہیں جو ٹیکس ہم حکومت کو دیتے ہیں اس سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے ،یہ یوٹیوب چینل پر سنا تھا، میراسوال یہ ہے کہ جو ٹیکس ہم حکومت کو ادا کرتے ہیں کیا اس سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے؟ میرے شوہر نےٹی وی پر اسلامی چینل پر سنا ہے آپ کےجواب کی منتظر۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حکومت کو دیئے جانے والے مروجہ ٹیکس سے زکوٰۃادا نہیں ہو تی ،لہذا سائلہ کے شوہر نے جو بات سنی ہے وہ درست نہیں ، چنانچہ ٹیکس کے علاوہ اپنے مال پر زکوٰۃ دینی چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفقہ الاسلامی وادلتۃ: لا تجزئ أصلاً الضريبة عن الزكاة؛ لأن الزكاة عبادة مفروضة على المسلم شكراً لله تعالى وتقرباً إليه والضريبة التزام مالي محض خال عن كل معنى للعبادة والقربة ، ولذا شرطت النية في الزكاة ولم تشرط في الضريبة ، ولأن الزكاة حق مقدر شرعاً،بخلاف الضريبة فإنها تخضع لتقدير السلطة،ولأن الزكاة حق ثابت دائم،والضريبة مؤقتة حسب الحاجة،ولأن مصارف الزكاة هي الأصناف الثمانية:الفقراء والمساكين المسلمون إلخ،والضريبة تصرف لتغطية النفقات العامة للدولة.وللزكاة أهداف روحية وخلقية واجتماعية إنسانية،أما الضريبة فلا يقصد بها تحقيق شيء من تلك الأهداف(احکام متفرقۃ فی توزیع الزکاۃ/ج2 ص894ط:حقانیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76947کی تصدیق کریں
1     838
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات