ٹیسٹ ٹیوب بے بی

آئی وی ایف(IVF) کے ذریعہ علاج کا حکم

فتوی نمبر :
74105
| تاریخ :
2024-06-25
معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / ٹیسٹ ٹیوب بے بی

آئی وی ایف(IVF) کے ذریعہ علاج کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! میں امریکا میں رہائش پذیرہوں، الحمد للہ ہمارا ایک بیٹا ہے جسکی عمر١٤ سال ہے، مزید اولاد کی خواہش ہے (کثرت حیض جیسی بیماری کی شکار ہوں ، اس بیماری کی وجہ سے مجھے ایام کے دنوں میں بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ڈاکٹرز نے فی الحال مانعِ حمل ادویہ پر رکھا ہوا ہے، اور سرجری کا بولا ہے کہ بچہ دانی نکال دیں گے) مزید اولاد کے لئے کئی مرتبہ علاج کرایا مگرمیں concieve نہیں کرسکی ، ڈاکٹر نے IVF اور IUI کا مشورہ بھی دیا ہے. شریعت کا کیا حکم ہے اس بارے میں؟ مگرہم دونوں میاں بیوی IUI اور IVF دونوں کے لئے تیار نہیں ہیں. یہاں کافروں کے درمیان رہتے ہوے، جنکا کوئی دین ایمان نہیں ہے ، میں اور میرے شوہر کسی پر بھی بھروسہ اور اعتماد نہیں کرسکتے. بس یہی خدشہ ہے کے الله نہ کرے اگر sperms میں کوئی رد بدل ہو گیا تو یہ عمل زنا کے زمرے میں ہی شمار ہو گا نہ؟ یہاں تمام کام لیب میں ہوتا ہے اگر کسی صورت ایسا ممکن ہو جائے کہ پورا procedure ہماری نظروں کے سامنے ہو تو کوئی گنجائش نکلتی ہے کہ ہم اس کو جائز سمجھیں؟ برائے مہربانی رہنمائے فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ "IVF" اور ٹیسٹ ٹیوب کے جتنے طریقے رائج ہیں، ان سب طریقوں میں سخت ضرورت کے وقت فقط اس طریقہ کار کو اپنانے کی گنجائش ہے کہ مادہ منویہ اپنے زندہ شوہر کا ہو اور پھر شوہر اور بیوی کے نطفے کا باہم اختلاط کرکے یہ ٹیوب بیوی کے رحم میں رکھ دی جائے جہاں وہ پرورش پائے، اور یہ عمل خود بیوی یا اس کے شوہر یا کسی لیڈی ماہر معالج سے کروایا جائے اور اس دوران ستر و حجاب کا پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ نہ کھولا جائے، لہٰذا اگر فطری طریقہ کار کے مطابق حصولِ اولاد میں رکاوٹ ہو، اور "IVF" کے ذریعے حصولِ اولاد کےلئے اختیار کردہ طریقہ کار میں اس بات کا یقین ہو کہ اس عمل میں کسی غیر مرد کے نطفے کا استعمال نہ ہوگا تو ایسی صورت میں بمجبوری سائلہ کیلئے "IVF" کا مندرجہ بالا طریقہ کار اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: التلقيح الصناعي: هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك ما نع شرعي من الاتصال الجنسي.وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة، لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية. ويعد هذا العمل أيضا منافياً للمستوى الإنساني، ومضارعاً للتلقيح في دائرة النبات والحيوان اھ (ج3،صـــ552،ط:رشیدیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سفیان رشید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74105کی تصدیق کریں
1     1796
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • نرینہ اولاد کے حصول کیلئے" ٹیسٹ ٹیوب بے بی" کا سہارا لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1
  • نرینہ اولاد کیلئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا سہارا لینا

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
  • آئی وی ایف(IVF) کے ذریعہ علاج کا حکم

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 1
  • آئی وی ایف وغیرہ ذرائع سے اولاد کے حصول کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ٹیسٹ ٹیوب بے بی 0
Related Topics متعلقه موضوعات