زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟-سادات کے لئے زکوٰۃ حرام ہے یا مکروہ ؟

فتوی نمبر :
73798
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟-سادات کے لئے زکوٰۃ حرام ہے یا مکروہ ؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام درجِ ذیل مسائل میں:
۱۔ زکوٰۃ ، مال کی کتنی مقدار پر فرض ہوتی ہے؟ اس میں سونا، چاندی اور دیگر اشیاء کی کیا مقدار ہے؟
۲۔ سیّدوں پر زکوٰۃ، صدقہ حرام ہے یا مکروہ؟ نیز ان کو کس قسم کا مال دیا جاسکتاہے؟
۳۔ اولاد کے حقوق میں والدین کے ذمہ کون کون سے کام ضروری ہیں؟
نیز کیا باپ اپنےبیٹے کا نام خود رکھ سکتاہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر نقدی ہو یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہو یا ان مختلف اشیاء سے اتنی مالیت کا مجموعہ ہو تو اس پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہے اس کے علاوہ اونٹ، گائے، بھینس اور بکریوں پر بھی چند شرائط کے ساتھ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مگر چونکہ یہ تفصیل طلب امر ہے لہٰذا ان کے بارے میں اگر کوئی صورت در پیش ہو تو سوال بھیج کر حکم شرعی معلوم کیاجاسکتاہے۔
۲۔ سیّدوں اور ہاشمیوں کے لیے زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کا لینا ناجائز اور حرام ہے۔ البتہ نفلی صدقات، تحائف اور غیرِ زکوٰۃ فنڈ سے ان کی مالی امدا کی جاسکتی ہے۔
۳۔ بچوں کیلئے اچھے ناموں کا انتخاب کرنا، ان کی پرورش صحیح تعلیم وتربیت اور ان کے بالغ ہونے پر ان کیلئے مناسب رشہ کا انتخاب کرنا وغیرہ اولاد کے والدین پر حقوق ہیں، جبکہ والد خود بھی اپنی اولاد کے لیے نام کا انتخاب کرسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی التنویر: ولا إلی بنی هاشم ولا إلی موالیهم وجازت التطوعات من الصدقات وغلة الاوقاف لهم. (۲/ ۳۵۱)
فی المشکٰوة: عن ابی سعید وابن عباس قالا لا رسول اللہﷺ من ولد له ولد فلیحسن اسمه وادّبه فاذا بلغ فلیزوّجه فان بلغ ولم یزوّجه فاصاب اثما فانّما اثمه علٰی ابیه. واللہ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جمیل احمد شیرین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73798کی تصدیق کریں
0     1807
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات