کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی سید نواز کے کچھ مکانات اور فلیٹ وغیرہ ہیں جن کو کرایہ پر دیا ہوا ہے تمام کا کرایہ تقریباً ۳۲۰۰۰ (بتیس ہزار روپے) آتا ہے، جو تمام گھریلو ضروریات میں خرچ ہوجاتا ہے اور کبھی ہزار ڈیڑھ ہزار بچ جاتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی بینک بیلنس بھی نہیں ہے، یہ تمام جائیداد میں نے فروختگی کی نیت سے نہیں خریدی بلکہ بچوں کیلئے خریدی ہے اور ان کو فروخت کرنے کا ارادہ بھی نہیں تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکور جائیداد پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
ایسی صورتحال میں مذکور جائیدادوں کی مالیت پر زکوٰۃ واجب نہیں البتہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پر دیگر اموال زکویہ کے ساتھ زکوٰۃ لازم ہوگی۔
وفیہ: ولا فی ثیاب البدن وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوھا قال ابن عابدین وغوھا ای کثیاب البدن الغیر محتاج الیھا وکالحوانیت والعقارات. اھـ (ج۲،ص۲۶۵) واللہ اعلم