زکوۃ و نصاب زکوۃ

کرایہ پر دئیے جانے والے مکان اور دکان کی مالیت پر زکوٰۃ لازم ہوگی ؟

فتوی نمبر :
73784
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کرایہ پر دئیے جانے والے مکان اور دکان کی مالیت پر زکوٰۃ لازم ہوگی ؟

میں آپ سے زکوٰۃ سے متعلق چند مسائل معلوم کرنا چاہتا ہوں: (۱) میرا ایک مکان ہے جس کا مجھے (۱۱۰۰۰) گیارہ ہزار روپے ملتا ہے جبکہ میں خود اپنے بچوں کے ساتھ دوسری جگہ کرایہ پر رہتا ہوں اُس مکان کا کریاہ (۴۶۵۰) چار ہزار چھ سو پچاس روپے ہے، گیس اور بجلی کا بل ملاکر لگ بھگ (۷۰۰۰) سات ہزار کا ہمیں پڑتا ہے، آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ جو ذاتی مکان ہے اس کے کرایہ پر زکوٰہ دینی ہے یا مکان کی قیمت پر زکوٰۃ دینی ہے؟
(۲) میرے ایک بہت قریبی عزیز ہیں جن کو میں نے کافی سال پہلے (۴۰۰۰۰۰) چار لاکھ روپے قرض دیئے تھے جن کے ملنے کی امید نہیں ہے یہ بتائیے کیا ان پیسوں پر بھی زکوٰۃ دینی ہے یا نہیں ؟
(۳) میں نے اپنے بچوں کو تین سال پہلے (۲۰۰۰۰۰) دو لاکھ روپے کاروبار کیلئے دیئے تھےا ُن کی آمدنی تمام کی تمام ۔۔۔۔ میں چلی جاتی ہے اور ان کی تمام کفالت میرے ذمہ پر ہے یہ بتائیں کہ اُن کی دو لاکھ کی مشینری پر زکوٰۃ نکلے گی یا اُن کی موجودہ آمدنی پر زکوٰۃ دینی ہوگی؟
(۴) اس کے علاوہ بچوں کی کچھ کمیٹیوں اور کچھ اپنی ذاتی کمیٹیوں سے دو دکانیں خریدی ہوئی ہیں یہ بتائیے کہ دکان کی قیمت پر زکوٰۃ دینی ہے یا کرائے پر زکوٰۃ نکلے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱-۳-۴) کمپنی کی مشینری اور کرایہ پر دی ہوئی دکانوں اور مکان کی مالیت میں زکوٰۃ نہیں چاہے کمیٹی کی رقم سے لی ہوں یا ذاتی رقم سے البتہ ان کی آمدنی میں سے زکوٰۃ کی تاریخ میں جو کچھ موجود ہو اس پر دوسرے اموال زکویہ کے ساتھ ملاکر ان کو زکوٰۃ دینا لازم ہے اس طرح کمیٹی میں جتنی قسطیں جمع کرائی گئیں ان کا بھی یہی حکم ہے۔
(۲) فی الفور مذکور رقم کی زکوٰة آپ پر لازم نہیں البتہ جب وصول ہو جائے تواس کی زکوٰۃ بھی ادا کرنی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیة وسببه ملك نصاب حوبی تام فارغ عن دین له مطالب من جهة العباد ..... فلا زكاة علٰی مكاتب ومدیون للعبر بقدر دینه فیزكی الزائد ان بلغ نصابا لا زكوٰة علٰی اثاث المنزل وكذٰلك آلات المحترفین إلا ما یبقی الشرعینه سواء كانت بما لا تستملك عینه فی الانتفاع كالقدوم والمبرد او تستهلك لكن هذا منه مالا یبقی اثر عینه كصابون لصباغ ودهن وعفان او باغ فلا زكاة فی اولین. (ج۲، ص۳۶۳ تا ۳۶۵)
وفی الشامیة: ولو كان الدین علٰی مقر ملی او علٰی معسر او مفلس او علٰی جاحد علیه بینة فرصل الٰی ملكه لزم زكاة ما مضٰی ... ولو كان الدین علٰی وال وهو مقر به الا انه لا یعطیه وقد طالبه بباب الخلیفة فلم یعطه فلا زكاة فیه. (ج۲، ص۲۶۶) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73784کی تصدیق کریں
0     856
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات