کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس شخص کی زکوٰۃ کے بارے میں جس کی جائیداد درج ذیل اشیاء پر مشتمل ہے:
(۱) چار (۴) دکانیں جو کرایہ پر دی ہوتی ہیں، تین (۳) گودام جن میں گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار کررہا ہے۔
(۲) ایک مزدا، تین (۳) کنٹینر، ایک ٹریلر جو مذکور کاروبار میں استعمال ہورہی ہے اور ٹریلر کی کچھ قسطوں کی ادائیگی ابھی باقی ہے۔
(۳) گاؤں میں تقریباً چار سو کنال زمین جو کھیتی باڑی (زراعت) کیلئے استعمال ہورہی ہے، بلوچستان، گوادر میں چار ایکٹر زمین ہے جو ابھی تک ایسی ہی فارغ پڑی ہے، البتہ بعد میں وہاں کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
مختلف اوقات میں مختلف آمدنی حاصل ہوتی رہتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ اشیاء میں سے کس کس پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اور کس کی آمدنی پر فرض ہے؟ اور کتنی زکوٰۃ فرض ہے؟
شرعی نقطۂ نظر سے تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
(۱، ۲) صورتِ مسئولہ میں دوکانوں اور مذکور تمام گاڑیوں کی مالیت وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں، البتہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہے۔
(۳) مذکور دونوں قسم کی زمینوں کی مالیت پر بھی زکوٰۃ نہیں، البتہ یہ زمینیں اگر نہری یا ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب نہ ہوتی ہوں تو ان سے حاصل ہونے والی پیداوار کا دسواں حصہ صدقہ کرنا واجب ہے۔
نیز کاروباری مقصد کیلئے خالی پڑی ہوئی زمین پر بھی زکوٰۃ نہیں، اور جن اموال پر زکوٰۃ لازم ہے وہ صاحب نصاب ہونے کے بعد سے پورا قمری سال گزرنے پر لازم ہے، اور اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ جب ادائیگی زکوٰۃ کا وقت آجائے تو اس وقت جتنا سونا چاندی، زیورات، نقدی یا کاروباری سازو سامان موجود ہو اس کی موجودہ ویلیو لگاکر اسکا چالیسواں حصہ اور کھیتی کا دسواں حصہ بطورِ زکوٰۃ و عشر فقراء و مساکین کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دینا لازم ہے۔
فی الدر: وکذالک آلات المحترفین الا ما یبقی اثر عینہ. الخ (ج۲، ص۳۰۳)
وفیہ ایضًا: وقیمتہ العرض للتجارة تضم الی الثمنین لان الکل للتجارة وضعًا. الخ (ج۲، ص۳۰۳)
وفیہ ایضًا: وتجب فی مسقی سماء ای مطر وسیح کنھر بلا شرط نصابٍ ... ویجب نصفہ فی مستفی غرب ای ولو کبیر ودالیة. الخ (ج۲، ص۳۲۶) واللہ اعلم