کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ دو بھائیوں (قمر اور فیاض) نے ایک زمین مشترکہ تجارت کی نیت سے خریدی دونوں بھائیوں نے آپس میں بٹوارہ کیا، ایک حصہ قمر کا ہے، اور ایک حصہ فیاض کا ہے، لیکن کاغذات میں اب بھی مشترک ہے، کاغذات اور زمین دونوں قمر کے قبضے میں ہے۔
اب قمر اپنے حصۂ زمین کو فروخت کرنا چاہتا ہے لیکن فیاض دستخط کیلئے تیار نہیں، جس کی وجہ سے قمر اس زمین کو فروخت نہیں کرسکتا۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ اس زمین پر زکوٰۃ ہےکہ نہیں اور اگر زکوٰۃ ہے تو کس کے ذمّے لازم ہے، جبکہ اس زمین پر کاشت وغیرہ قمر ہی کرتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور بھائی قمر کا زمین اپنے پاس روکے رکھنا اور دوسرے بھائی کے زمین فروخت کرنے میں رکاوٹ بننا شرعاً جائز نہیں، اس پر لازم ہے کہ یا تو قیمت دیکر زمین اپنی طرف کرلے یا ضابطہ کی کاروائی کرکے اسے فروخت کرنے کی اجازت دے دے جبکہ مذکور زمین میں عشر لازم ہوگا، جس کی ادائیگی مسمّٰی قمر کے ہی ذمہ ہوگی۔
وفی التاتار خانیة: ولو اشتری أرض عشر أو أرض خراج للتجارة فیھا العشر أو الخراج دون زکاة التجارة. الخ (ج۲، ص۳۳۹)
وفی البدائع: قال أصحابنا فیمن اشتری أرض عشر للتجارة أو اشتری أرض خراج للتجارة أن فیھا العشر أو الخراج ولا تجب زکاة التجارة مع أحدھما ھو الروایة المشہورة عنہم. الخ (ج۲، ص۵۷) واللہ اعلم بالصواب