زکوۃ و نصاب زکوۃ

تعمیراتی کام کی کمپنی مالکان کے لئے زکوۃ کے احکامات

فتوی نمبر :
73575
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تعمیراتی کام کی کمپنی مالکان کے لئے زکوۃ کے احکامات

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی محمد زبیرنے دیگر شرکاء کے ساتھ مل کر ایک کمپنی بنائی ہے،ہمارا کاروبار یہ ہے کہ ہم مختلف جگہوں پر زمین خرید کر اس پر تعمیر کرتے ہیں،اس پر فلیٹ وغیرہ بناتےہیں،جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم پہلے کسی جگہ پر زمین خرید تے ہیں،پھر اس کا نقشہ فائنل کرکے لوگوں سے ایڈوانس بکنگ کرواتے ہیں،جس میں مکمل پروجیکٹ کی قیمت متعین کرکے اسی کے مطابق فلیٹوں اور دوکانوں وغیرہ کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے،اور بعد میں مٹیریل کے مہنگے یا سستے ہونے کی وجہ سے فلیٹ یا دوکان کی قیمت میں کمی بیشی نہیں کی جاتی ہے،بلکہ وہی متعین کردہ قیمت قسطوار کسٹمر سے وصول کی جاتی ہے،جس میں لوگ بکنگ کرکے کچھ رقم ایڈوانس دیتے ہیں،اور اس پر تعمیرات شروع کردیتے ہیں اور جیسے ہی یہ تعمیرات مکمل ہوجاتی ہیں ،تو متعلقہ لوگوں کے حوالہ کردیتے ہیں،
اس کی تعمیر کا طریقہ یہ ہے کہ ہم جب لوگوں سے کچھ رقم ایڈوانس لے لیتے ہیں،تو اس میں ممکنہ اخراجات کے لئے سب سے پہلے سرمایہ (پلاٹ کی قیمت)نکالتے ہیں،اس کے بعد اگر رقم بچتی ہوتو اس کو نفع سمجھ کر شرکاء اور ورکنگ پارٹنر میں تقسیم کرلیتے ہیں،ان شرکاء میں سے ایک ورکنگ پارٹنر ہوتا ہے،اس کا حصہ بیس فیصد نفع میں سے ملنا ہوتا ہے اور اس کا حصہ اصل سرمایہ نکالنے کے بعد دیا جاتا ہے، اس سلسلہ میں معلوم یہ کرنا ہے کہ اس پروجیکٹ پر کام کے دوران ہم زکوۃ کس طرح ادا کریں گے؟کیونکہ اس پروجیکٹ میں زمین کی قیمت کے علاوہ تعمیرات پر آنے والی باقی رقم کسٹمر کی ہوتی ہے۔
(2)ہم کسی جگہ پر پلاٹ خریدلیتے ہیں تو خریدتے وقت اس کی قیمت الگ الگ ہوتی ہے،لیکن بسا اوقات اس کی مارکیٹ ریٹ میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے،کہ ایک کلو میٹر پر ایک جگہ ایک لاکھ کی خریدی اور وہ پانچ لاکھ پر فروخت ہوئی،لیکن کچھ فاصلہ پر ایک پلاٹ 8 لاکھ کی لی اور اب وہ 12 لاکھ پر بھی فروخت نہیں ہورہی ہے،تو ایسی صورتحال میں زکوۃ کے وقت کا تعین کیسے کریں گے؟جبکہ بسا اوقات مارکیٹ اس قدر مختلف ہوتا ہےکہ معاملہ کرنے سے قبل اس کا اندازہ اگر ناممکن نہ ہو تو مشکل ضرور ہوتا ہے،کیا ایسی صورت ِحال میں قیمت خرید کو معیار بناکر زکوۃ ادا کرسکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب سے قبل بطورِ تمہید یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے،کہ سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق بلڈرز اور کسٹمرز کے درمیان ہونے والا معاملہ فقہی اصطلاح میں"عقدِ استصناع" کہلاتا ہے،جس میں مستصنع(کسٹمر) کی جانب سے صانع(بلڈر)کو ادا کی جانے والی رقم شرعاً صانع(بلڈر)کی ملکیت بن جاتی ہے جبکہ زیرِ تعمیر پروجیکٹ میں موجود فلیٹ اور دکانیں وغیرہ جب تک تیار ہوکر کسٹمر کے حوالہ نہ کی جائیں اس وقت تک زمین سمیت تمام تر زیرِ تعمیر پروجیکٹ کا مالک بھی شرعاًصانع (بلڈر)شمار ہوتا ہے،اور فلیٹ اور دکانیں وغیرہ کسٹمر کو حوالے کرنے سے قبل اس کے نفع ونقصان کی ذمہ داری بھی شرعاً صانع (بلڈر) پر عائد ہوتی ہے،نیز جو چیز جس شخص کی ملکیت اور قبضے میں ہو اس کی زکوۃ حسبِ شرائط اسی شخص پر لازم ہوتی ہے،
لہذا ادائیگی زکوۃ کے وقت زیر تعمیر اسٹرکچر کی مارکیٹ ویلیو،خام مال کی قیمت اور کسٹمرز سے وصول شدہ رقم میں سے موجود رقم کے مجموعہ پر ڈھائی فیصد کے حساب سے سائل اور اس کے شرکاء کے ذمہ زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی،البتہ اگر فلیٹ وغیرہ کا قبضہ کسٹمر کو نہ ملا ہو تو اس مد میں مستصنع (کسٹمر)سے واجب الوصول اقساط کو شامل نہیں کیا جائیگا -
جبکہ ادائیگئِ زکوۃ میں راجح قول کے مطابق قیمت فروخت کا اعتبار ہوتا ہے،اس لئے کسی بھی پراپرٹی وغیرہ کی زکوۃ ادا کرتے وقت اس وقت مارکیٹ ویلیو کے مطابق ادائیگئِ زکوۃ لازم ہوگی،تاہم اگر کسی جگہ کی صورتِ حال اس طرح ہوکہ وہاں قیمتِ فروخت کا تعین ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں قیمت خرید (جوکہ یقینی طور پر معلوم ہے) کے مطابق زکوۃ ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (قوله هو لغة طلب الصنعة) أي أن يطلب من الصانع العمل ففي القاموس: الصناعة: ككتابة حرفة الصانع وعمله الصنعة اهـ فالصنعة عمل الصانع في صناعته أي حرفته، وأما شرعا: فهو طلب العمل منه في شيء خاص على وجه مخصوص يعلم مما يأتي، وفي البدائع من شروطه: بيان جنس المصنوع، ونوعه وقدره وصفته، وأن يكون مما فيه تعامل، وأن لا يكون مؤجلا وإلا كان سلما وعندهما المؤجل استصناع إلا إذا كان مما لا يجوز فيه الاستصناع، فينقلب سلما في قولهم جميعا الخ (ج5 ص223 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم
وفی نوازل الزكاة : (المطلب الثاني زكاة مال الاستصناع)
اختلف الفقهاء في حكم الاستصناع على قولين؛ قول بالجواز وآخر بالمنع ، إلا أنه استقر رأي جواز الاستصناع وصحته عند فقهاء العصر ، والمقصود هنا بيان حكم زكاة المال في الاستصناع في حق الصانع والمستصنع، حيث اختلف المعاصرون في ذلك على ثلاثة أقوال:
القول الأول: عدم وجوب الزكاة على المستصنع والصانع في مال الاستصناع ۔
القول الثاني: وجوب الزكاة على المستصنع في ثمن المصنوع حتى يستلم المصنوع، ووجوبها على الصانع في المصنوع حتى يقبضه المستصنع۔
القول الثالث: وجوب الزكاة على الصانع فيما يقبضه من ثمن المصنوع، مع عدم وجوب الزكاة على المستصنع في ذلك الثمن۔
وفیھا أیضاً: يترجح القول الثاني؛ وهو وجوب زكاة الثمن على المستصنع ما لم يقبضه الصانع، أو يستحقه، كما يجب على الصانع زكاة المصنوع ما لم يقبضه المستصنع أو يستحقه، وذلك لتحقق ملك المستصنع لثمن المصنوع، وتحقق ملك الصانع لعين المصنوع وموادِّه التي يتركب منها، مع عدم تَحَقُّقِ ملك الصانع للثمن ما لم يقبضه أو يستحقه، فإنْ قَبَضَه فقد تملكه، وإن استحقه ولم يقبضه فتنطبق عليه أحكام زكاة الدين، وهي إنما تجب إن كان الدين على مليء باذل، كما أن ملك المستصنع للمصنوع لا يتحقق ما لم يقبضه أو يستحقه (1)، فإن استحقه ولم يقبضه فتجري عليه أحكام زكاة الديون كما تقدم، (2) إلا أن إيجاب الزكاة في المصنوع أو ثمنه، إنما يكون في حال وجودِهما لدى مالكهما، وبلوغِهما نِصابًا، وحَوَلَان الحول على ذلك.اھ(324۔326المبحث الخامس عشر ط: دارالمیمان،القاھرۃ)۔
وفی رد المحتار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء الخ (ج2 ص286 کتاب الزکوۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهنديۃ: وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء الخ (ج1 ص180 کتاب الاجارۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی فقہ البیوع: الثمن المدفوع مقدما عند ابرام العقد مملوک للصانع یجوز لہ الانتفاع والاسترباح بہ،وتجب علیہ الزکاۃ فیہ،ولکنہ مضمون علیہ بمعنی انہ اذا انفسخ العقد لسبب من الاسباب،یجب علیہ رد الثمن علی المستصنع،ویکون ربحہ للصانع بحکم الضمان،تخریجاً للثمن المقدم فی الاستصناع علی الاجرۃ المقدمۃ أو ما اشترط تعجیلہ فی الاجارۃ الخ (ج1 ص605 الاستصناع،احکام ثمن الاستصناع ط: معارف القرآن کراتشی باکستان)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73575کی تصدیق کریں
0     755
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات