زکوۃ و نصاب زکوۃ

وجوبِ زکوٰۃ و اشیاءِ زکوٰۃ کا بیان

فتوی نمبر :
7339
| تاریخ :
2009-10-13
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

وجوبِ زکوٰۃ و اشیاءِ زکوٰۃ کا بیان

محترم مفتی صاحب! مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ میری زکوٰۃ کا حساب کس طرح سے ہوگا کس کس چیز پر اور پیسے پر مجھے زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی؟
کام کی نوعیت:
میں اکاؤنٹنٹ ہوں اور لوگ میرے پاس آتے ہیں اور اپنے خرچے بتاتے ہیں اور میں اُن کا حساب کتاب بناکر ٹیکس والوں کو دیتا ہوں جس پر وہ پھر فیس ادا کرتے ہیں۔
میں اُن کو فیس لگاتا ہوں، میری فیس میرا جتنا وقت ہے اس کے مطابق ہوتی ہے، کسی کے کام پر مجھے ایک ہفتہ کسی کے کام پر مجھے دو ہفتے اور اسی طرح مختلف وقت لگ جاتا ہے۔
جب میں کام ختم کرلیتا ہوں تو جس کا کام کررہا ہوتا ہوں اُس کو بتاتا ہوں کہ تمہارا کام اب ختم ہوگیا ہے اور تم پر مثلاً پانچ ہزار پونڈ ٹیکس آئے گا اور اس کام کی میری فیس پانچ سو پونڈ ہیں۔
کچھ لوگ مجھے اس دن میری فیس پانچ سو پونڈ دے دیتے ہیں کچھ لوگ ایک مہینے بعد دیتے ہیں، کچھ دو ماہ بعد میری فیس دیتے ہیں کچھ چھ ماہ بعد آکر دیتے ہیں کچھ لوگ غائب ہوجاتے ہیں اور مجھے فیس ملتی ہی نہیں۔
سوال: جو فیس کے پیسے ابھی تک میرے قبضے میں نہیں آئے یعنی نہیں ملے ہوسکتا ہے چند دن بعد ملیں، ہوسکتا ہے چند مہینے بعد ملیں، اُن پر زکوٰۃ کس طرح دوں گا؟
میں اپنی زکوٰۃ کا حساب سال میں ایک دفعہ رمضان المبارک میں کرتا ہوں، اس دفعہ میں نے اپنا حساب 31-08-2009 کو کیا، 31 اگست کو میرا کچھ اس طرح حساب تھا: مثلاً!
نقدی پونڈ 800 (یقینی موجود)
بینک میں جو پیسے ہیں 2000 (یقینی موجود)
جو لوگوں کو میں نے قرض حسنہ دیا ہوا ہے پتہ نہیں مجھے کب واپس ملے گا 1000 (معلوم نہیں)
دفتر کا حساب
ٹیبل کرسیاں اور کمپیوٹرز 1200
کئی لوگوں کا کام کرتا ہوں ابھی ان کا کام ختم نہیں ہوا نہ فیس کی مقدار طے ہوئی ہے۔
جن لوگوں کا کام ختم ہوگیا اُن کو میں نے اپنی فیس بتادی، ہوسکتا ہے ہفتے بعد ملے یا کئی مہینوں بعد ملے 3000 (ممکنہ)
ان میں چند بھاگ جائیں گے اور فیس ادا نہیں کریں گے 340 (ہوسکتا ہے)
جو مجھ پر لوگوں کا قرضہ ہے مجھے اُن کو دینا ہے 600 (میرے اوپر قرضہ ہے)
گاڑی کے ٹیکس انشورنس دینا ہے 335 (یہ ابھی ادا نہیں کیے)
دفتر کے ٹیکس کا بل جو میں ہر مہینے قسطوں میں تھوڑا تھوڑا ادا کرتا ہوں، اس کی بقایا مقدار 615
دفتر کی ابھی تک مجھے جو آمدن ہوئی ہے اس کا ٹیکس مجھے جون 2010 میں دینا ہے750
سالانہ کل آمدن: 80000
سالانہ تجارتی نفع خرچے: 60000
سالانہ نفع بچت:20000
آپ مجھے بتائیں میرے کام میں نفع پر زکوٰۃ کا کیا مسئلہ ہے 31-08-09 سال کے حساب سے کس کس پیسے پر مجھے زکوٰۃ دینی ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو قرض اور ٹیکسز وغیرہ سائل کے ذمہ واجب الادا ہیں، اُنہیں ادا یا منہا کرنے کے بعد جتنی مالیت بچے، اگر وہ بقدرِ نصاب یا اس سے زائد بچے اور اس پر مکمل قمری سال بھی گزر جائے تو اس مجموعہ کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
اور آپ کا جو قرضہ بوجہ آپ کی خدمت کے , لوگوں کے ذمہ ہے اگر اس کے ملنے کی اُمید نہ ہو تو اس کی وصولی سے پہلے زکوٰۃ لازم نہیں، اور اگر دے دی جائے تو بلاشبہ ادا ہوجائے گی، جبکہ روز مرّہ کی عام استعمال میں آنے والی اشیاء جیسے کرسیاں، میز، کمپیوٹر وغیرہ ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی التنویر: وسببہ ملک نصاب حولی تامٌ فارغ عن دین لہ مطالب من جھة العباد وفارغ عن حاجتہ الاصلیة نامٍ ولو تقدیرًا. الخ (ج۲، ص۲۵۹)
وفی البدائع: وجملة الکلام فی الدیون أنھا علی ثلاث مراتب فی قول أبی حنیفة دین قوی ودین ضعیف ودین وسط (الی قولہ) وأما دین الوسط فما وجب لہ بدلًا عن مال لیس للتجارة کثمن عبد الخدمة وثمن ثیاب البذلة والمھنة وفیہ روایتان عنہ، ذکر فی الأصل أنہ تجب فیہ الزکوة قبل القبض لکن لا یخاطب بالأداء مالم یقبض مأتی درھم، فإذا قبض مأتی درھم زکّی لما مضٰی. وروی ابن سماعة عن ابی یوسف عن أبی حنیفة أنہ لا زکوٰة فیہ حتی یقبض المأتین ویحول علیہ الحول من وقت القبض وھو اصح الروایتین عنہ. الخ (ج۲، ص۱۰) واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 7339کی تصدیق کریں
0     592
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات