زکوۃ و نصاب زکوۃ

ایک تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
72376
| تاریخ :
2024-04-06
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

ایک تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

کیا کسی کے پاس ایک تولہ سونا ہو اور اس کے ساتھ دوسو روپے بھی ہو ں تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے ؟ نیز فتاویٰ عثمانیہ میں کچھ یوں فرماتے ہیں اگر کسی خاتون کے پاس تین تولہ سونا ہو تو صاحب نصاب بننے کے لیے اس کے پاس ساڑھے اکتیس تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ چونکہ اس خاتون کے پاس تین تولہ سونا اور دوسوروپے ہیں اور دو سو روپے ساڑھے اکتیس تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نہیں ، اس لیے ضم بالا جزا پر عمل کرنے کے باوجود اس عورت پر زکوۃ واجب نہیں۔ اس کی بارے میں بھی رہنمائی فرمایا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے فتاوی عثمانیہ میں ذکر کردہ مسئلہ کا صفحہ اور جلد نمبر درج نہیں کیا تاکہ اسے دیکھ کر اس کے متعلق وضاحت کر دی جاتی۔ تا ہم شریعتِ مطہرہ میں سونا اور چاندی دونوں کے وجوب زکوۃ کے لیے الگ الگ معیار مقرر کیے گئے ہیں، چنانچہ خالص سونے کی موجودگی میں اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور خالص چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے، جبکہ دونوں یا اس کے علاوہ دیگر اموال زکوۃ جیسے کیش رقم، اموالِ تجارت کی موجودگی میں معیار نصاب کیا ہوگا اور ان اشیاء کو باہم ملا کر کسی الگ نصاب تک پہنچنے کا ضابطہ کیا ہوگا۔ تو اس سلسلہ میں فقہاءِ احناف کے درمیان ضم بالقیمۃ اور ضم بالاجزاء کے دونوں اقوال موجود ہیں لیکن انفع للفقراء کے ضابطے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ضم بالقیمۃ کہ قول کو راجح اور مفتی بہ قرار دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس سونے اور چاندی یا روز مرہ اخراجات سے زائد رقم موجود ہو اور دونوں کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جاتی ہو تو قمری سال مکمل ہونے کی صورت میں اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوی الھندیہ: ولو ضم أحدهما إلى الآخر حتى يؤدى كله من الفضة أو من الذهب فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجًا وإلا فيؤدى من كل واحد منهما ربع عشره الخ۔ (ج: 1،ص: 179، ط: رشيدية)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72376کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات