ایک محکمے میں ملازم کی ایک خاص مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ریٹائرمنٹ کے موقع پر ایک تعمیر شدہ مکان دیا جاتا ہے، تفصیل اس کی اس طرح ہے کہ پلاٹ محکمے کی طرف سے مفت دیا جاتا ہے، جبکہ اس پر مکان کی تعمیر کے اخراجات ملازم کو خود ادا کرنے ہوتے ہیں، مکان کی تعمیر بھی حکومتی محکمہ خود کرواتا ہے، ریٹائرمنٹ سے دو سال پہلے ملازم قسطوں میں تعمیری اخراجات کی رقم ادارے کے پاس جمع کرواتا ہے، اس دوران گھر کی تعمیر بھی ہوتی رہتی ہے، مکمل اقساط ادا کرنے کے بعد مکان کے مالکانہ حقوق ملازم کو دے دیے جاتے ہیں اور ملازم کو اختیار دے دیا جاتا ہے کہ وہ اس مکان میں خود رہے یا کرائے پر دے دے یا پھر بیچ دے، البتہ جب تک مالکانہ حقوق نہیں ملتے ملازم اس گھر کو پیشگی طور پر بیچ نہیں سکتا، سوال یہ ہے کہ محکمے کے پاس جمع شدہ اس رقم، جس کو ملازم محکمے کے پاس تعمیری اخراجات کی مد میں جمع کروا چکا ہے اور ابھی اسے گھر یاپلاٹ کے مالکانہ حقوق نہیں ملے، پر زکوۃ کا کیا حکم ہوگا؟
محکمے کی طرف سے ملازم کو بلا عوض پلاٹ دیے جانے کے بعد اس پر مکان تعمیر کے اخراجات کے مد میں ملازم کی طرف سے محکمے کو قسطوار جو رقم دی جاتی ہے، اس رقم کی زکوٰۃ ملازم کے ذمہ لازم نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: (وشرطہ) ای شرط افتراض ادائہا (حولان الحول) وھو فی ملکہ الخ (ج2، ص267، ط:سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور اھ (ج2، ص 9، سعید)۔