زکوۃ و نصاب زکوۃ

زمین کی سیرابی پر اخراجات ہونے کی صورت میں کتنا فیصد عشر نکالنا لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
71273
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زمین کی سیرابی پر اخراجات ہونے کی صورت میں کتنا فیصد عشر نکالنا لازم ہوگا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) جس زمین کو نہری پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اس زمین کا عشرکتنے فیصد نکالا جائے گا جبکہ آب پاشی پر حکومت کو آبیانہ بھی دیا جاتا ہے۔
(۲) ایسی زمین جس کو ذاتی ٹیوب ویل کے ذریعہ سیراب کیا جاتا ہے اس کی پیداوار میں کتنے فیصد عشر نکالا جائے گا، جبکہ ذاتی ٹیوب ویل کے استعمال میں آئل کے خرچہ کافی مقدار میں ہوتا ہے۔
(۳) ایسی زمین جس کو دوسرے شخص کے ٹیوب ویل کے ذریعہ سیراب کیا جاتا ہے اس کو پیداوار میں کتنے فیصد عشر نکالا جائے گا، جبکہ اس صورت میں آئل کے خرچ کے ساتھ ٹیوب ویل کے استعمال پر کرایہ بھی دیا جاتا ہے۔
(۴) ۱۔ آبیانہ، ۲۔ بیج کی رقم، ۳۔ کھیڑی (ہل چلانے) کی مزدور یا خرچ، ۴۔ چونڈائی (فصل کی کٹائی) کی مزدور، ۵۔ تھریشر مشین کے ذریعے گندم کو بھوسے سے علیحدہ کرنے کی مزدوری، اور ۶۔ فصل کو بیچنے کیلئے شہر تک لے جانے کی مزدوری وغیرہ جیسے اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے کُل آمدنی سے نکالے جائیں گے یا بعد میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱- ۴) مذکور تینوں صورتوں میں نصفِ عشر لازم آئے گا اور سوال نمبر (۴) میں مذکور تمام اخراجات کو منہا کرنے سے قبل نکالا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: ویجب نصفه فی مسقی غرب ای دلو كبیر ودالیة ای دولاب لكثرة المؤنة وفی كتب الشافعیة أو سقاه بماء اشتراه وقواعد نالا تاٰباه. (ج۲، ص۳۲۸)
وفی الرد: لان العلة فی العدول عن العشر الٰی نصفه فی مستقی غرب ودالیة هی زیادة الكلفة كما علمت وهی موجودة فی شراءٍ الماء. اهـ (ج۲، ص۳۲۸)
وفیه ایضًا: قوله بلا رفع مؤن ای یجب العشر فی الاوّل ونصفه فی الثانی بلا رفع اجرة العمال ونفقة البقر وكری الانهار واجرة الحافظ ونحو ذلك درر. قال فی الفتح یعنی لا یقال بعدم وجوب العشر فی قدر الخارج الذی بمقابلة المؤمنة بل یجب العشر فی الكل. الخ (ج۲، ص۳۲۸) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اجمل شاکر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71273کی تصدیق کریں
1     1097
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات