زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زکوٰۃ سے حیلہ تملیک کرکے خرچ کرنا

فتوی نمبر :
71269
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

مدرسہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے زکوٰۃ سے حیلہ تملیک کرکے خرچ کرنا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ (۱) میں ایک مدرسہ کا منتظم ہوں جس میں قریباً تیس طلبا رہائشی زیر تعلیم ہیں مدرسہ کی آمدنی کا کوئی معقول ذریعہ نہیں ہے صدقاتِ واجبہ و نافلہ سے تعلیمی، تعمیری، اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر مصارف پر اخراجات کیے جاتے ہیں صرف صدقاتِ نافلہ کی رقوم سے مذکور اخراجات پورے نہیں ہوسکتے اس لئے صدقاتِ واجبہ زکوٰۃ و عشر کی رقوم میں حیلۂ تملیک کیا جاتا ہے جس کا طریقہ کار یہ اختیار کیا گیا ہے کہ مذکور رقوم پہلے طلباء کو ملکاً دی جاتی ہیں پھر ان سے ہدیۃً واپس لے لی جاتی ہیں کیا یہ حیلہ صحیح ہے حالانکہ اس طریقہ سے طلباء میں بدظنی اور اساتذہ و انتظامیہ سے بدگمانی پھیلتی ہے یا اس کے متبادل کوئی آسان اور جائز صورت اختیار کی جاسکتی ہے؟ جس سے دیگر مصارف پر خرچ ہوسکے؟
(۲) ابتداءً جو جگہ مدرسہ کیلئے لی گئی تھی اس میں ایک وسیع مسجد تعمیر کی گئی جس کی وجہ سے مدرسہ کیلئے جگہ بہت کم رہ گئی جو طلباء کیلئے ناکافی ہے اب ایک عرصہ کے بعد مسجد کی مغربی جانب ایک پلاٹ ملا ہے اور اس طرف مسجد کو آگے بڑھا کر وسیع کردیا گیا ہے کیا مسجد کا مشرقی حصہ جو کہ مسجد کے صحن وغیرہ پر مشتمل ہے اس کو مدرسہ میں داخل کیا جاسکتا ہے یا طلباء کی رہائش کیلئے وہاں کوئی عمارت بنائی جاسکتی ہے جس سے طلباء کی رہائش کا مسئلہ حل ہوسکے؟
(۳) مذکور مدرسہ کے طلباء کے کھانے بنانے کیلئے کسی مقرر باورچی کا انتظام نہیں ہے میری اہلیہ کھانا بناتی چلی آرہی ہے تو کیا اس کی جگہ کوئی دوسری عورت اُجرت پر مقرر کی جاسکتی ہے یا اپنی اہلیہ کو اس عمل کا معاوضہ دے کر باقی رکھا جاسکتا ہے؟ جبکہ دوسری صورت میں سہولت بھی ہے۔
(۴) طلباء کیلئے اجتماعی طور پر جو کھانا میری اہلیہ تیار کرتی ہے تو اس میں سے ہم اپنے گھر کیلئے نو، دس بندوں کا کھانا نکال لیتے ہیں اور مہینہ کے ااخر میں حساب کرکے ممکن اور محتاط حد تک کھانے کی قیمت لوٹادیتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ اگر گھر کیلئے علیحدہ کھانا بنایا جائے تو اس میں اہلیہ کو بہت دِقت ہوتی ہے تو کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟
برائے مہربانی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درجِ بالا سوالات کا جواب دیکر ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) مذکور طریقہ پر حیلہ کرنے والے طلباء اگر واقعۃً عاقل بالغ ہونے کے ساتھ مستحقِ زکوٰۃ بھی ہوں اور انہیں مذکور مدات کی رقم پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا جاتا ہو اور پھر وہ اپنے اختیار سے کل رقم یا اس میں سے اپنی ضرورت کیلئے کچھ رکھنے کے بعد بقیہ رقم مدرسہ کو واپس لوٹادیں تو یہ عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اگر مذکور طریقہ پر عمل کرنے سے انتشار کا خطرہ ہو تو پھر طلباء کے علاوہ کسی دوسرے مستحق سے مذکور بالا ترتیب کے موافق حیلۂ تملیک کرانے کی گنجائش ہے تاہم اگر شروع سال سے فقط اتنے ہی طلبا کو داخلے دئیے جائیں جن کیلئے حیلہ وغیرہ کی ضرورت ہی نہ پڑے تو سب سے بہتر اور افضل طریقہ ہے۔
(۲) مذکور جگہ جب باضابطہ مسجد تعمیر کرکے عام مسلمانوں کی ضرورت کیلئے وقف کردی گئی ہے تو اب اس کے کسی حصہ کو مسجدیت سے نکال کر مدرسہ یا کسی دوسرے مصرف میں تبدیل کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے اس سے احتراز لازم ہے۔
(۳،۴) اپنی اہلیہ کو بھی تنخواہ پر مذکور ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے اور اس صورت میں کھانے کا عوض دیکر ضرورت کا کھانا لینے کی بھی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیة: ان الحیلة ان یتصدق علی الفقیر ثم یأمر بفعل هذه الاشیاء وهل له ان یخالف امره؟ لم اره والظاهر نعم. اهـ (ج۲، ص۳۴۵)
وفی الشامیة: اما لو تمت المسجدیة ثم اراد البناء منع ولو قال عینت ذالك لم یتصدق. اهـ (ج۴، ص۳۵۸).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الباسط رزاق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71269کی تصدیق کریں
0     1037
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات