زکوۃ و نصاب زکوۃ

اساتذہ کی تنخواہوں کیلئے زکوٰۃ کے مال سے گاڑی خرید کرکرایہ پر دینا

فتوی نمبر :
71206
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اساتذہ کی تنخواہوں کیلئے زکوٰۃ کے مال سے گاڑی خرید کرکرایہ پر دینا

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ شرح متین اس بارے میں کہ (۱) مدارس دینیہ کیلئے ہر سال جو رقومات مختلف مالدار حضرات سےبطور زکوٰۃ وصول کی جاتی ہیں اور جن سے کہ مدرسین کی تنخواہیں بھی جائز نہیں ہوتیں، کیونکہ زکوٰۃ اجرت میں نہیں لگتی ہے، اگرچہ مدرسین غریب بھی ہوں اور مدرسے کی اپنی کوئی مستقل آمدنی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں مدرسین کی ماہانہ تنخواہوں کیلئے کیا کرنا چاہئے جو شرعاً مکمل جائز ہو اور دین سیکھنے میں ناکامی بھی نہ آجائے۔
(۲) اگر اس جمع شدہ زکوٰہ پر ایک سواری مثلاً ڈاٹسن، ٹیکسی، جیپ وغیرہ خریدے جائیں، اور مدرسہ کی آمدنی کا ایک ذریعہ بن جائے اور پھر اس آمدنی سے مدرسین کی تنخواہیں ادا ہوتی رہیں تو کیا ایسا کرنا جائز اور حلال ہوگا یا نہیں؟
(۳) مالدار مہتمم یا ناظم جو کل وقتی یا جز وقتی ڈیوٹی کرتے ہیں وہ اپنی کفاف اس زکوٰۃ سے لے سکتے ہیں یا نہیں؟ مستند کتابوں کا حوالۂ متن فرماکر تشفی فرمادیں، اور حرام خوری کے وبال، سزا اور مؤاخذے سے بچانے کی تجاویز فرمادیں۔
نوٹ: یہ مدارس شہروں میں نہیں بلکہ دیہاتوں میں ہوتے ہیں جزاکم اللہ! نیز وفاق المدارس کے الحاق فیسوں میں یا مدرسوں کی بعض تعمیری ضرورتوں میں زکوٰۃ کی رقومات کیسے صرف کی جائیں گے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

تملیک شرعی کے بغیر زکوٰۃ کی رقم سے جو گاڑی خرید کر اس کی آمدنی سے مدرسین کی تنخواہوں کا انتظام کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم کسی ذی وجاہت مستحق زکوٰۃشخص کو یہ کہہ دیا جائے کہ تم قرض لیکر تعمیر مدرسہ اور مدرسین کی تنخواہوں وغیرہ کا انتظام کردو، ہم آپ کے قرض کی ادائیگی کردیں گے، پھر زکوٰۃ کی مد سے اس کا قرض اتار دیا جائے تو ایسا کرنا شرعاً بھی جائز ہے، کیونکہ اس سے زکوٰۃ بھی مستحق تک پہنچ جائے گی اور ضروریاتِ مدرسہ بھی پوری ہوتی جائیں گے، اور اگر طلباء مقیم ہوں اور ان میں مستحق زکوٰۃ بھی ہوں تو انہیں مالک بناکر یا ان کی وکالت سے دیگر امور بجا لائے جائیں تو یہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الھندیة: ولا یجوز ان یبنی بالزکاة المسجد وکذا کری الانھار والحج والجھاد وکل مالا تملیک فیہ ولا یجوز ان یکفن بھا میت ولا یقضی بھا دین المیت کذا فی التبیین. اھـ (ج۱، ص۱۸۸)
وفی التاتار خانیة: ولا تصرف فی بناء مسجد وقنطرة وفی شرح الطحاوی: ورباط وفی شرط المتفق: ولا یبنی بھا قبر. اھـ (ج۲، ص۲۷۲)
وفی التاتار خانیة: والحیلة لمن اراد ذلک ان یتصدق ینوی الزکاة علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذلک بالصرف الی ھذہ الوجوہ فیکون لصٓحب المال ثواب الصدقة ولذالک الفقیر ثواب ھذا الصرف. اھـ (ج۲، ص۲۷۲)
قال فی الدر: وقدمنا ان الحیلة ان یتصدق علی الفقیر ثم یأمرہ بفعل ھذہ الاشیاء وھل لہ ان یخالف أمرہ لم ارہ والظاہرونہم. اھـ (ج۲، ص۳۴۵) واللہ تعالٰی اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
منیر احمد ھاشم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71206کی تصدیق کریں
0     494
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات