زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر پر لازم ہے یا بیوی پر؟

فتوی نمبر :
71197
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ شوہر پر لازم ہے یا بیوی پر؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) بیوی کے زیورات کی زکوٰۃ کی ادائیگی کس پر واجب ہے شوہر پر یا بیوی پر؟ نیز سونا اور چاندی کی مقدار نصاب کیا ہے؟
(۲) اگر زیورات کی زکوٰۃ پانچ سال سے ادا نہ کی گئی ہو تو اس کی زکوٰۃ کی ادائیگی کس طرح ہوگی پانچ سال پہلے کی قیمت کے اعتبار سے یا موجودہ قیمت کے اعتبار سے؟
(۳) عورت اپنی زیورات یا روپے پیسے کی زکوٰۃ اپنے ننھیال میں نانا اور نانی وغیرہ کو دے سکتی ہے یا نہیں؟ یا شوہر کے دھدیال یا ننھیال میں دے سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی کی ملکیت میں سونا ہی سونا ہو اس کے علاوہ اور کچھ نہ ہو تو اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ اور اگر صرف چاندی ہی ہو اور اس کے سوا کچھ نہ ہو تو اس کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے اس کے بعد واضح ہو کہ بیوی کے پاس جو زیورات ہیں اگر وہ بیوی ہی کی ملکیت ہوں تو اس کی زکوٰۃ وغیرہ بھی اس کے ذمہ لازم ہوگی ورنہ جس کی ملکیت ہوں وہی اس کی زکوٰہ وغیرہ کی ادائیگی کا بھی ذمہ دار ہوگا، اور اس سلسلہ میں ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہے اس لئے اسکی موجودہ بازاری قیمت لگاکر پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کی جائے اس ادائیگی کے بعد بھی یہ زیورات اگر بقدرِ نصاب ہوں تو اس سے دوسرے سال کی، اس کے بعد جو بچے اس سے تیسرے سال کی زکوٰۃ نکالتے جائیں یہاں تک کہ مذکور زیورات مقدارِ نصاب رہتے ہوئے گزشتہ پانچ سال مکمل ہوجائیں۔
(۳) اپنے اصول و فروع کو جن میں نانا، نانی بھی ہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے البتہ میاں بیوی کے خاندان مختلف ہوں تو شوہر کے دادا، دادی، نانا اور نانی کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: وشرط افتراضھا عقل وبلوغ واسلام وحریة وسببہ ملک نصاب حولی تام فارغ عن دین لہ مطالبٌ من جہة العباد اھ(ج۲، ص۲۵۸، ۲۵۹)
وفی الدر: وجاز دفع القیمة فی زکوة وعشر وخراج وفطرة وکفارة غیر العتاق وتعتبر القیامة یوم الوجوب وقالا یوم الاداء الخ قال فی الشامیة فی تشریح ھذہ العبارة: ای کون المعتبر فی السوائیم یوم الاداء اجماعاً فانہ ذکر فی البدائع انہ قیل ان المعتبر عندہ فیہا یوم الوجوب وقیل یوم الاداء وفی المحیط یعتبر یوم الاداء بالاجماع وھو الاصح اھ(ج۲، ص۲۸۶)
وفی الھدایة: ولا یدفع المزکی زکوٰة مالہ إلی ابیہ وجدہ وان علی ولا إلی ولدہ وولد ولدہ وان سفل اھ(ج۱، ص۲۰۶) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فضل اکبر حاجی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71197کی تصدیق کریں
0     1194
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات