مفتی صاحب آپ سے ایک مسئلہ کا حل درپیش ہے آپ سے درخواست ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا حل فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔
ایک فلاحی ادارہ جو کہ K.S.V ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے ہے ان کے پاس کچھ رقم جمع ہے جو کہ زکوٰۃ فنڈ کی رقم ہے۔
ایک شخص ہم سے لون لینا چاہتا ہے پچاس ہزار روپے جس سے وہ ٹیکسی خریدے گا اور ہمیں ہر ماہ دو ہزار کے حساب سے وہ لون واپس کرے گا یہ لون جو کہ پرافٹ فری لون ہے، تو آپ سے درخواست ہے کہ کیا زکوٰہ کی جو رقم جمع ہے اُس سے ہم لون دے سکتے ہیں یانہیں؟
مذکور ادارہ زکوٰۃ جیسی رقوم ان کے واقعی مستحقین تک پہنچانے کا وکیل ہے، وکالت میں کوتاہی یا ’’مذکور مد‘‘ سے قرض جاری کرنے کی اسکیم جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، اور اگر کسی کو دے دی ہو تو فوری طور پر اس رقم کا بندوبست کرکے اس مد کو مستحقین تک پہنچانے کی مکمل سعی کریں، تاہم اگر قرض لینے والا واقعی مستحق ہو تو اس کے نام قرض جاری کرنے کے بجائے اتنی یا کم و بیش رقم اسے مالکانہ قبضہ کے ساتھ دے دی جائے تو یہ بہتر ہے، اور ادارہ کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔