کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی کا ملازم ہوں اور میری تنخواہ پینتیس ہزار روپے ہے اور میری بیٹی مستقل مریض ہے جس کی وجہ سے میں نے قرض لیا ہے اور وہ تقریباً تین لاکھ کے قریب ہے اور مجھے کمپنی مالک نے کہا ہے کہ میں زکوٰۃ کی مد سے آپ کا قرضہ ختم کرتا ہوں تو کیا اس صورت میں میرے لئے زکوٰۃ کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی ر وشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ: میرے گھر میں ٹی وی اور فریج بھی ہے، مالکان کو میری بیٹی کے تمام تر مرض کے متعلق معلومات ہیں۔
سائل کا زکوٰۃ کی مد سے معاونت وصول کرنا اگرچہ جائز اور درست ہے مگر اسے چاہئے کہ ٹی وی جیسی عبث اشیاء کو بیچ کر اپنی ضروریات پوری کرلے اور اس قسم کی اشیاء میں اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کرے۔
قال اللہ تعالٰی: ﴿انما الصدقات للفقراء والمساکین والعالین علیھا والمؤلفة قلوبھم وفی الرقاب والغارمین. (توبة: ۶۰)
و فی الہندیة: والدفع الٰی من علیھا الدین اولٰی من الدفع إلی الفقیر. اھـ (188/1)واللہ اعلم بالصواب