زکوۃ و نصاب زکوۃ

وکیل کا زکوٰۃ کی رقم ذاتی کاروبار میں لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
71174
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

وکیل کا زکوٰۃ کی رقم ذاتی کاروبار میں لگانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے میرے ایک رشتہ دار نے کچھ زکوٰۃ کے پیسے دیئے کہ تم ان پیسوں کو زکوٰۃ کے مصرف میں خرچ کرنا تو کچھ رقم میں نے غریبوں کو دے دیئے اور کچھ ابھی باقی ہیں اب زکوٰۃ کے ان بقیہ رقم کو میں تجارت میں یا کسی سے بیع مضاربت کرکے اس زکوٰۃ کے مال سے نفع اٹھانا چاہتا ہوں، کیا از روئے شریعت زکوٰۃ کے ان پیسوں سے میں نفع اٹھاسکتا ہوں نیز میں صاحب نصاب ہوں اور اصل رقم جو زکوٰۃ کی ہے وہ نفع حاصل کرنے کے بعد اس کے مد مصرف میں خرچ کرنا اپنے اوپر لازم سمجھتا ہوں، از راہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کے پاس زکوٰہ کی رقم امانت ہے اور وہ اسے مستحقین تک پہنچانے میں وکیل ہے اس رقم کو اپنے استعمال میں لاکر اس سے نفع حاصل کرنے کا جو طریقہ سوال میں درج ہے بلاشبہ ناجائز اور امانت میں خیانت کے مترادف ہے اس پر لازم ہے کہ اپنے باطل نظریہ سے احتراز کرے اور یہ رقم اصل مصرف میں خرچ کرکے مواخذۂ اخروی سے بھی سبکدوشی حاصل کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: ولو خلط زکاة مؤکلیہ ضمن وکان متبرعًا إلا اذا وکلہ الفقراء. (ج۲، ص۲۶۹) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد المؤمن خوشی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71174کی تصدیق کریں
0     1171
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات