کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ محمد سلیمان ولد بخت جمال نے اپنی بیوی مسماۃ فضیلت بنت طاہرمحمد کو زبانی طور پر بذریعہ فون تین مرتبہ طلاق دی ،الفاظ طلاق یہ تھے کہ"فضیلت بی بی میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "اور پھر اس کے بعد اسٹامپ پیپر پر بھی تحریری طور پر دی ہے کاپی منسلک ہے،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟ دوسری بات کہ ایجاب و قبول کے دوران جو حق مہر مقرر کیا تھا وہ پانچ تولے لکھا گیا ہے جبکہ زبانی بات دو تولے کی ہوئی تھی ،تو اب طلاق کی صورت میں حق مہر پانچ تولے لازم ہوگا یا دو تولے،جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
سائل نے بذریعہ فون جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے ،نیز عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،جبکہ عقدِ نکاح کے وقت ایجاب و قبول کے دوران جب فریقین کی رضامندی سے پانچ تولہ سونا بطور حق مہر مقرر ہوچکا تھا تو اب طلاق ہوجانے کی صورت میں سائل کے ذمہ پانچ تولہ سونا کی ادائیگی ہی لازم ہوگی ،زبانی طورپر دوتولہ سونے کی بات کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ۔
قال اللہ تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ)[البقرة: 230]۔
الفتاوى الهندية:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (1/473)۔
وفیھاایضاً:فإن اتفقا على ما تواضعا في السر وأشهدا أن الزيادة في العلانية سمعة فالمهر هو المذكور عند العقد في السر فأما إذا لم يشهدا أن الزيادة في العلانية سمعة ففي شرح مختصر الطحاوي على قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى أن المهر هو مهر العلانية ويكون هذا زيادة على المهر الأول سواء كان من جنسه أو من خلاف جنسه اھ (1/316)۔