قمر درِ عقرب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ قمر درِ عقرب کی ساعتوں میں نکاح نہیں کرنا چاہیئے ، قمر درِ عقرب کا دورانیہ منحوس ہوتا ہے ، اس میں کوئی کام نہیں کرنا چاہیئے، براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیراً ً!
واضح ہوکہ قمر درِ عقرب کےدورانیہ کو منحوس سمجھنا اور اس میں نکاح سے منع کرنا شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں ہے، بلکہ یہ نجومیوں کی طرف سے پھیلائی ہوئی غلط باتیں ہیں، لہذا اس قسم کی واہیات سے احتراز لازم ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: أن النبيﷺ خرج يوما مستعجلا إلى المسجد وقد انكسفت الشمس فصلى حتى انجلت ثم قال: " إن أهل الجاهلية كانوا يقولون: إن الشمس والقمر لا ينخسفان إلا لموت عظيم من عظماء أهل الأرض وإن الشمس والقمر لا ينخسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما خليقتان من خلقه يحدث الله في خلقه ما شاء فأيهما انخسف فصلوا حتى ينجلي أو يحدث الله أمرا "(رقم الحدیث 1483، ج 1، ص 470)۔
و فیہا ایضاً: عن ابی عمر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ "الشؤم فی المرأۃ، والدار و الفرس، متفق علیہ، و فی روایۃ" الشؤم فی ثلاثۃ: فی المرأۃ، والمسکن، والدابۃ"(رقم الحدیث 3086،ج 2، ص 3)۔
جمعرات اور مغرب کے بعد حاملہ خاتون کو گھر سے نکلنے سے منع کرنے کی حقیقت
یونیکوڈ توہم پرستی اور بدفالی 0