زکوۃ و نصاب زکوۃ

صدقے کے لیے مختص کی گئی رقم سے بوقت ضرورت خرچ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
70869
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

صدقے کے لیے مختص کی گئی رقم سے بوقت ضرورت خرچ کرنے کا حکم

میں صدقہ کیلئے کچھ رقم علیحدہ رکھ لیتا ہوں صدقہ کی نیت کرکے اور پھر جب کوئی مستحق نظر آتا ہے اس میں سے دیتا رہتا ہوں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھے ضرورت پڑگئی اور میں نے بطور ادھار اس میں سے لے لی اور پھر بعد میں واپس رکھ دی۔
تو کیا صدقہ کی رقم متعین کرنے سے متعین ہوجاتی ہے یا کہ مالک بنانے پر صدقہ کہلائے گی؟
اور قاعدہ بھی بتادیں کہ کون کون سے تصرفات (صرف صدقات کی اقسام میں نہ کہ تمام عقود میں) میں تعیین کافی ہوتی ہےاور کن میں تملیک ضروری؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب: صدقہ چاہے واجبہ ہو یا نافلہ اس کی رقم متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتی، البتہ صدقات واجبہ میں تملیکِ فقیر شرط ہے اور نافلہ میں نہیں، لہٰذا بوقتِ ضرورت اس مد سے لینے اور بعد میں اتنی رقم اس مد میں لوٹادینے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیة: أقول وفیہ نظر لان تعیین الزمان والمکان والدرہم والفقیر غیر معتبر فی النذر، لان الدّاخل تحتہ ما ہو قربة وھو أصل التصدق دون التعیین فیبطل وتلزم القربة کما صرّحوا بہ. (ج۲، ص۲۶۹)
وفی التاتار خانیة: وفی ہبة النوازل: رجل فی یدہ دراہم فقال ’’للہ علی أن اتصدق بہذہ الدراھم‘‘. فلم یتصدق حتی ھلک فلا شیئ علیہ، وفی الخانیة: وان لم یہلک وتصدق بمثلھا جاز ایضًا. (ج۲، ۳۱۶) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70869کی تصدیق کریں
0     1410
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات