زکوۃ و نصاب زکوۃ

والد کا اپنی غریب بیٹی اور بھائی کا اپنے غریب بھائی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ؟

فتوی نمبر :
70868
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

والد کا اپنی غریب بیٹی اور بھائی کا اپنے غریب بھائی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) باپ بہت زیادہ مال دار ہے اور اس کی بیٹی بہت زیادہ غریب ہے اور اس بیٹی نےشادی بھی کی ہے اور شوہر بھی بہت غریب ہے تو کیا اب باپ بیٹی کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں دے سکتا تو کیا وجہ ہے اگر بیٹی کو زکوٰۃ نہیں دے سکا تو کیا باپ بیٹی کے شوہر کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟ آپ صاحبان اس مسئلہ پر وضاحت فرمائیں۔
(۲) دو بھائی ہیں ایک مالدار ہے تو کیا جو بھائی مالدار ہے وہ اپنے غریب بھائی کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں دے سکتا تو بھائی کی بیوی کو زکوٰۃ دے سکتا ہے یا نہیں؟ آپ صاحبان اس مسئلہ پر روشنی فرمائیں آپ صاحبان کی عین نوازش ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب: (۱) والد کا اپنی اولاد (اگرچہ وہ مستحقِ زکوٰۃ ہی کیوں نہ ہو) کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اس سے احتراز واجب ہے۔
لہٰذا شخص مذکور کی بیٹی اگر واقعۃً مستحقِ زکوٰہ ہو اور والد صاحبِ وسعت بھی ہو اور بطورِ تبرع یا نفلی صدقات کے ذریعہ بیٹی کی مدد کرسکتا ہو تو اُسے چاہئے کہ اپنی مذکور بیٹی کو بجائے زکوٰۃ کے دیگر صدقات نافلہ اور تبرعات سے حاجت پوری کرے، اور اگر زکوٰۃ کی مد کے علاوہ تعاون کرنے سے عاجز ہو تو اس صورت میں زکوٰۃ کی رقم اپنے داماد کو دے سکتا ہے اور یہ جائز ہے بشرطیکہ وہ مستحقِ زکوٰہ بھی ہو۔
(۲) مال دار بھائی اپنے مستحقِ زکوٰۃ غریب بھائی کو شرعاً زکوٰۃ دے سکتا ہے بلکہ یہی افضل اور بہتر بھی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی فتح القدیر: ولا یدفع المزّکی زکاته الی ابیه وجده وإن علا ولا إلی ولده وولد ولده وإن سفل لأن منافع الإملاک بینہم متصلة فلا یتحقق التملیک علی الکمال الخ وقال صاحب الفتح تحت ہذہ العبارة المذکورة (قولہ ولا یدفع المزّکی زکاتہ) الأصل أن کل من انتسب الی المزّکی بالولاد أو انتسب ولہ بہ لا یجوز صرفھا لہ فلا یجوز لأبیہ وأجدادہ وجداتہ من قبل الأب والام وإن علا و ولا الی أولادہ وأولادہم وإن سلفوا. الخ (ج۲، ص۲۰۹)
وفی العالمگیریة: ولا یدفع إلی أصلہ وإن علا وفرعہ وإن سفل کذا فی الکافی. الخ (ج۱، ص۱۸۸)
الأفضل أن یخص بالصدقة الأقرب ثم الجیران فہم أولٰی من الأجانب لقولہ تعالٰی (یتیمًا ذا مقربةٍ) ولقولہ ﷺ لزینب إمرأة عبد اللہ بن مسعود (زوجک وولدک أحق من تصدقت علیہم) ولقولہ علیہ السلام فی حدیث حسن رواہ أحمد والترمذی وإبن ماجہ الصدقة علی المسکین صدقة وہی علی ذی الرحم اثنتان صدقة وصلة الخ (الفقہ الإسلامی وأدلتہ. ج۲، ص۹۱۹)
وفی العالمگیریة: والأفضل فی الزکاة والفطر والنذور الصرف أوّلًا الی الإخوة والأخوات ثم الٰی أولادھم ثم الی الأعمام والعمات ثم الٰی أولادھم ثم الی الأخوال والخالات ثم إلی أولادھم ثم إلی ذوی الأرحام ثم إلی الجیران ثم الی اھل حرقتہ ثم الی اہل مصرہ أو قریتہ کذا فی السراج الوھاج. الخ (ج۱، ص۱۹۰) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70868کی تصدیق کریں
0     1794
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات