زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے قیدیوں کو ضرورت کی اشیاء فراہم کرنا

فتوی نمبر :
70861
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم سے قیدیوں کو ضرورت کی اشیاء فراہم کرنا

(۱) ایک مدرسہ ہے جس کا گیس کا بل ۳۰۰۰ روپے آتا ہے اور دوسرے بل بھی آتے ہیں ان بلوں کی ادائیگی میں زکوٰۃ کی رقم دے سکتے ہیں اور مدرسہ میں کن جگہوں پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرسکتے ہیں اس کے بارے میں بتادیں۔
(۲) زکوٰۃ کی رقم سےجیل میں قیدیوں کو کھانا کمبل دوائیاں دے سکتے ہیں؟ اس بارے میں جواب عنایت فرمائیں آپ کی مہربانی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب: (۱) مسجد و مدرسہ کی تعمیر و ترقی، بجلی اور گیس کے بلوں میں بلا واسطۂ تملیک زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ کا خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں، ورنہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، پس اگر کسی ادارہ کے پاس صدقاتِ نافلہ اور دیگر عطیات کی مد میں واقعۃً کچھ رقم وغیرہ نہ ہو تو بمجبوری بواسطۂ تملیک زکوٰۃ کی مد سے بھی خرچ کرنے کی اجازت ہے۔
(۲) اسی طرح واقعی مستحق قیدیوں کیلئے زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ کی مد سے کمبل، اُن کے کھانے پینے اور دوائیوں میں خرچ کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

لما فی کتب الفقه.
وفی الدر: ویشترط ان یكون الصرف (تملیكا) لا اباحة كما مر. لا یصرف (الی بناء) نحو (مسجد و) لا الی كفن میت وقضاء دینه. اهـ وفی الشامیة: (قوله تملیكا) فلا یكفی فیها الاطعام الا بطریق التملیك ولو اطعمه عنده ناویا الزكاة لا تكفی. اهـ (ج۲، ص۳۴۴) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 70861کی تصدیق کریں
0     660
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات