کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین در ایں مسئلہ کہ ایک شخص مارکیٹ میں کاروبار کرتا ہے اور عمومی طور پر رمضان المبارک میں اس کے بہت سے دوست احباب اس کو رقم بمد زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ اس رقم سے مختلف مدارس وغیرہ کو کپڑوں کے جوڑے خرید کر دیتا ہے اور یہ ترتیب اکثر و بیشتر جاری رہتی ہے اس مرتبہ ماہِ رمضان میں ایک ضرورت کی جگہ سامنے آئی تو اس نے سوچا کہ اس وقت تو میں کپڑے کا انتظام کرکے اس ضرورت کو پورا کردوں بعد میں جب فلاں صاحب اس مد میں رقم ادا کریں گے، جیسا کہ انہوں نے وعدہ بھی کیا ہے (یا اس کی امید ہے) لہٰذا وہ آدمی اپنے پاس سے انتظام کرکے ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کردیتا ہے اور بعد میں انتظام ہونے پر اس ادا شدہ رقم کے حساب کومکمل کردیتا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے اعتبار سے تو فقہاء کی تحقیق اور جزئیات کی صراحت سے اس آدمی کے مذکور عمل سے صاحب نصاب کی زکوٰۃ کی ادائیگی میں خلل واقع ہوتا ہے اور اس کا عمل شرعاً درست نہیں اور وکالت کے باب میں اس عمل کی کتنی گنجائش ہے۔ بینوا توجروا!
صورتِ مسئولہ میں مذکور طریقہ سے زکوٰۃ ملنے کی امید اور وعدہ کی بنیاد پر کسی کی زکوٰۃ دینے سے شرعاً زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، اور یہ محض دینے والے کی طرف سے تبرع شمار ہوگا اور موعود رقم ملنے کی صورت میں اس کا مستحقین زکوٰۃ کو دینا لازم ہے۔
البتہ اگر کسی شخص نے واقعۃً دوسرے کو اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کا وکیل بنایا ہو، اس طور پر کہ تم اتنی رقم میری طرف سے مستحقین کو دے دو، میں بعد میں ادا کروں گا، اور پھر مستحق سامنے آنے پر وکیل نے اتنی رقم یا اس سے کم مقدار دیکر معیَّن شخص مؤکل کی طرف سے ادائیگی کی نیت کرلی ہو تو ایسی صورت میں مؤکل کی طرف سے ادائیگی زکوٰۃ شمار ہوگی۔
فی البدائع: ولو تصدق عن غیر بغیر امره، فان تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه ولا تجوز عن غیره وان اجازه ورضه به. الخ (ج۴، ص۳۲۸)
وفی رد المحتار: قال فی البحر: ولو تصدق عنه بامره جاز. الخ (ج۲، ص۲۶۹) والله سبحانه وتعالٰی اعلم