زکوۃ و نصاب زکوۃ

کافروں کے ساتھ مالی تعاون کرنا:

فتوی نمبر :
70764
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کافروں کے ساتھ مالی تعاون کرنا:

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ آسمانی مصائب اگر کافر قوم پر نازل ہوئی یامرتدین اور زنادقہ پر جیسے کہ مرزائی، پرویزی، ذکری، آغاخانی، یا رافضی اور شیعہ پر تو ان کے ساتھ تعاونِ مالی و جانی جائز ہے یا نہیں؟ جو دینی ادارے مسلمانوں سے فرض، نفلی صدقات لیتے ہیں اور مسلمان بھی اُن کو مسلمانوں پر خرچ کرنے کیلئے دیتے ہیں ان میں سے کافر، مرتد، زندیق پر خرچ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ جیسے ایران کے زلزلہ میں دینی فلاحی اداروں کا خرچ کرنا۔۔۔ بینوا توجروا!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جواب: جاننا چاہئے کہ زکوٰۃ کا مصرف تو فقط مسلمان فقراء ہیں جبکہ دیگر صدقات اگر کسی خاص مصرف کیلئے مختص نہ ہوں تو انسانی ہمدردی کے تحت ایسے مصیبت زدہ غیر مسلم پر بھی خرچ کرسکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الهدایة: ولا یجوز ان یدفع الزكوٰة الی ذمی لقوله (علیه الصلوٰة والسلام) لمعاذ (رضی الله عنه) كذها من اغنیائهم وردها فی فقرائهم ویدفع الید ما سویٰ ذالك من الصدقة، وقال الشافعی (رحمه الله) وهو روایة من ابی یوسف (رحمه الله) اعتبارًا بالزكوٰة، ولنا قوله (علیه السلام) تصدقوا علی اهل الادیان كلها ولولا حدیث معاذ لقلنا فی الجواز فی الزكوٰة. اهـ (ج۱، ص۲۰۵) والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ایوب منیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70764کی تصدیق کریں
0     661
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات