زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوۃ کی رقم دیتے وقت زکوۃ کی صراحت کرنا ضروری ہے ؟

فتوی نمبر :
70501
| تاریخ :
2024-01-23
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا زکوۃ کی رقم دیتے وقت زکوۃ کی صراحت کرنا ضروری ہے ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا زکوۃ دیتے وقت یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوۃ کے پیسے ہیں ؟ بینوا توجروا!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر زکوٰۃ لینے والے کے متعلق یقین یا غالب گمان کی حد تک اس کے مستحق ہونے کا علم ہو تو ایسی صورت میں اس کو زکوٰۃ دیتے وقت زکوٰۃ کے متعلق صراحت کرنا ضروری نہیں ، بلکہ ہدیہ کے نام سے زکوٰۃ دی جائے ، تاکہ اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُھُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ الآیۃ (آیتـ 60 سورۃ التوبۃ)
وفی الھندیۃ: اذا اراد الرجل أداء الزکاۃ الواجبۃ قالوا الافضل الاعلان والاظھار وفی التطوعات الافضل ھو الاخفاء والاسرار کذا فی فتاوی قاضیخان اھ (کتاب الزکاۃ ج 1 صـ 171 ط:ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: ومن اعطی مسکینا دراھم وسماھا ھبۃ أو قرضا ونوی الزکاۃ فإنھا تجزیہ وھو الأصح ھکذا فی البحر الرائق ناقلا عن المبتغی والقنیۃ الخ (کتاب الزکاۃ ج1 صـ 171 ط:ماجدیۃ)
وفی البحر الرائق: وینبغی أن یکون مفرعاً (إلی قولہ) والأصح کما فی المبتغی والقنیۃ من أعطی مسکینا دراھم وسماھا ھبۃ أو قرضا ونوی الزکاۃ فإنھا تجزیہ ولم یشترط أیضا الدفع من عین مال الزکاۃ لما قدمناہ من أنہ لو أمر انسانا بالدفع عنہ أجزأہ الخ (کتاب الزکاۃ ج 2 صـ 212 ط:ماجدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70501کی تصدیق کریں
0     594
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات