زکوۃ و نصاب زکوۃ

رہائشی مکان کی خریداری میں سہولت کی خاطر خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
70455
| تاریخ :
2024-01-21
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

رہائشی مکان کی خریداری میں سہولت کی خاطر خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! گزارش ہےکہ ہماری ایک عزیزہ ہیں، انکی بچی کے نام پرگجرات میں ایک پلاٹ ہے، بچی امریکہ چلی گئی ہے،اب انہوں نےچاہا کہ پلاٹ بیچ کر امریکہ میں اسکے لئے گھر خریدیں تو وہاں قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے بیچے گئے مکان کی قیمت سے نہیں خرید سکتے ،تو اب وہ اس رقم سے دوبارہ گجرات میں پلاٹ خریدناچاہ رہے ہیں، تاکہ آگے چل کر اگر پلاٹ کی قیمت زیادہ ہوتی ہے تو اسکو بیچ کر بچی کیلئے وہاں(امریکہ)میں رہائش کیلئے مکان خرید کر اسکا سیٹ اَپ بنا لیں۔
تو اب معلوم یہ کرنا ہےکہ اس رقم پر زکوٰۃ ہو گی یا نہیں؟ کیونکہ یہ رقم خالص رہائش کیلئے ہے،کوئی کاروبار مقصود نہیں ہے،پہلے بھی رہائش کیلئے تھی اور اب بھی رہائش ہی کیلئے ہے، ہم صرف یہ چاہ رہے ہیں کہ اسکی قیمت تھوڑی بڑھ جائے، تاکہ امریکہ میں بچی کے لئے گھر خرید لیں،بچی مطلقہ ہے،آیا اس پر زکوٰۃ ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور پلاٹ بیچ کر حاصل شدہ رقم اگر بقدرِ نصاب ہو یا دیگر اموالِ زکوٰۃ (سونا، چاندی اور نقدی) کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ رہی ہو ،تو ایسی صورت میں قمری سال کے حساب سے اس عورت پر سالانہ اڑھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی، اسی طرح اس رقم کے ذریعے خریدا جانے والا پلاٹ اگرچہ مستقبل میں گھر کی خریداری کیلئے خریدا جا رہا ہو ، تب بھی مالِ تجارت ہونے کی وجہ سے اس کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق اس پر بھی زکوٰۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة۔اھ (267/2)
وفي الفتاویٰ الھندية: (ومنها حولان الحول على المال العبرة في الزكاة للحول القمرى واذا كان النصاب کاملا فى طرفى الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية. ولو استبدل مال التجارة او النقدين بجنسها او بغير جنسها لا ينقطع حكم الحول۔اھ (175/1)
وفى الهندية: وان كانت للتجارة فان بلغت مأتين وجبت الزكاة اھ (179/1) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70455کی تصدیق کریں
0     810
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات