1. ناک سے بہنے والا پانی یا زکام ناپاک ہوتا ہے؟ اور کیا وہ کپڑا یا رومال جس سے یہ پانی صاف کیا جائے ناپاک ہو جائے گا؟
2. کیا نماز جمعہ کے وقت کاروبار کرنا ناجائز و حرام ہے؟ ایک کاروبار پر دو افراد کام کرتے ہیں ، قریبی مساجد میں ایک جگہ نماز ِجمعہ ایک بجے اور دوسری جگہ دو بجے ہوتی ہے، کیامذکورہ دونوں افراد اپنا کاروبار کھلا رکھتے ہوئے باری باری نماز جمعہ ادا کرسکتے ہیں؟
1. ناک سے بہنے والی رینٹھ اور جس کپڑے یا رومال سے اسے صاف کیا جائے ، دونوں شرعاً پاک شمار ہوتے ہیں ، اس لئے ایسے کپڑے یا رومال کے ساتھ پڑھی جانے والی نمازیں بھی درست ادا ہوں گی، البتہ ایسا کپڑا یا رومال جس پر بکثرت رینٹھ صاف کی گئی ہو ، اور اس کی وجہ سے کپڑے یا رومال پر اس کے داغ دھبہ صاف نظر آرہے ہوں، تو ایسے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا یا ایسا رومال سامنے بچھاکر اس پر نماز پڑھنا نماز کی عظمت کے منافی ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ ہے ، اس لئے ایسا کرنے سے احتراز چاہیئے ۔
2. جمعہ کے دن اذانِ اوّل کے بعد چونکہ خرید و فروخت سے مطلقاً ممانعت آئی ہے ، اس لئے محلہ کی مساجد میں سے قریبی مسجد میں پہلی اذان کے بعد کاروبار اور خرید و فروخت جاری رکھنا شرعاً مکروہ ہے ، لہٰذا مذکور کاروبار کو چلانے والے دو افراد کا مختلف مساجد میں باری باری نماز پڑھتے ہوئے محلہ کی مسجد کی اذانِ اوّل کے بعد کاروبار کھلا رکھنا بھی شرعاً مکروہ ہے ۔
وفی رد المحتار: وتكره الصلاة مع الخرقة التي يمسح بها العرق، ويؤخذ بها المخاط لا لأنها نجسة، بل لأن المصلى معظم والصلاة عليها لا تعظيم فيها اھ (ج 6، صـــ 363، ط: سعید)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: (وذروا البيع) قال أبو بكر: اختلف السلف في وقت النهي عن البيع، فروي عن مسروق والضحاك ومسلم بن يسار: "أن البيع يحرم بزوال الشمس" وقال مجاهد والزهري: "يحرم بالنداء" اھ (ج 3، صـــ 448، ط: سھیل اکیڈمی)۔
وفی البحر الرائق: (قوله ويجب السعي وترك البيع بالأذان الأول) لقوله تعالى (يا أيها الذين آمنوا إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع) اھ (ج 2، صـــ 156، ط: ماجدیہ)۔
وفی فقہ البیوع: وقد تعود بعض التجار أنھم لایغلقون محلاتھم التجاریۃ بعد أذان الجمعۃ، ویبررون عملھم بأن اصحاب دکان واحد یتناوبون فی أداء صلوۃ الجمعۃ فی مساجد مختلفۃ فی اوقات مختلفۃ، فلاتفوت الجمعۃ علی أحد منھم، والظاھر أن ھذا لایجوز، وذٰلک لأنہ یمکن جمیع المشترین من عقد الشراء بعد الأذان، حتٰی الذین لایجوز لھم ذٰلک لإخلالھم بالسعی الواجب فی حقھم، وقد ذکر الفقھاء أن کل واحد من العاقدین یأثم فی ھذا الصورۃ اھ (ج 2، صـــ 985، ط: معارف القرآن)۔واللہ اعلم