میرے اور میری بیوی کے پاس 35 تولہ سونا ہے، مگر اس کی سالانہ زکٰوۃ ادا کرنے کے لئے رقم نہیں ہے تو ہم اسی زیور کو بیچ کر زکٰوۃ ادا کرنا چاہتے ہیں ، اب کیا اگلے سال پھر سے ہمیں تمام زیور پر زکٰوۃ ادا کرنا ہوگا ؟جب تک کہ وہ بکتے بکتے 7.5 تولہ کی زکٰوۃ ایک تولہ سے کم تک نہیں آجاتا ، یا پھر ایک دفعہ ادا کرنی ہوگی ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس سال ہم نے 35 تولہ کی زکٰوۃایک تولہ سونا بیچ کر ادا کر دی ، تو اگلے سال 34 تولہ ادا کرنا ہوگا؟ یا اس سال کے7.5تولہ نکال کر 26.5تولہ پر ادا کرنا ہوگا؟
واضح ہوکہ صاحبِ نصاب شخص کے پاس موجود اموال زکوۃ کی مجموعی مالیت پر ہر قمری سال مکمل ہونے کی صورت میں ڈھائی فیصد کے حساب سے ادائیگیِ زکوۃ لازم ہوتی ہے ، لہٰذا سائل اور اس کی بیوی کے پاس موجود سونے کی مجموعی مقدار اور اس کے علاوہ کیش رقم وغیرہ ( اگرموجود ہو ) پر قمری سال مکمل ہونے پر کل مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوۃ ادا کرنا لازم ہے ، جبکہ ادائیگیِ زکوۃ میں بعینہ سونا دینے کے بجائے کیش رقم دینے کی صورت میں سونے کی کچھ مقدار فروخت کرکے بھی زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے ، لیکن اس سال کی ادائیگیِ زکوۃ کے لئے سونا فروخت کرکے زکوۃ ادا کرنا بقیہ سالوں کی ادائیگیِ زکوۃ کے لئے کافی نہ ہوگا ،بلکہ جب تک بقیہ سونا بقدرِنصاب موجود ہو یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے تو ہر قمری سال مکمل ہونے پر اس وقت موجود سونے اور دیگر اموالِ زکوۃ کے مجموعی مالیت پر ادائیگی لازم ہوگی ۔
کما في الدر المختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) الخ ( ج2 ص267 کتاب الزکوۃ ط: سعید ) ۔
وفي الفتاوى الهندية: وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر، وفي رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت، والأول أصح كذا في التهذيب. الخ ( ج1 ص170 کتاب الزکوۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفي بدائع الصنائع: والزكاة لا تجب في السنة إلا مرة واحدة الخ ( ج2 ص37 کتاب الزکوۃ ط: سعید)