مہر

معجل اور غیر معجل مہر کی ادائیگی کب لازم ہوتی ہے؟

فتوی نمبر :
69842
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / مہر

معجل اور غیر معجل مہر کی ادائیگی کب لازم ہوتی ہے؟

سوال یہ ہے کہ ایک بچی کے نکاح کے موقع پر لڑکے والوں کی طرف سے مندرجہ ذیل مہر لکھوایا گیا ۔ 10 ہزار روپے معجل ڈھائی تولہ سونے کے زیورات کا سیٹ معجل دو لاکھ روپے غیر معجل 10 ہزار روپے نکاح کے فورا بعد لڑکی کو ادا کر دیئے گئے۔ جبکہ سونے کا سیٹ بھی حوالے کر دیا گیا۔ چونکہ سونے کا سیٹ کافی عرصہ پہلے خریدا گیا تھا اور خریدنے والے کو اس کے وزن کی صحیح مقدار یاد نہ تھی اتفاقاً بعد میں سونے کے سیٹ کی رسید ملی، تو معلوم ہوا کہ وہ ڈھائی تولے کے بجائے پونے دو تولے تھا ۔ اس کے علاوہ دولاکھ روپے غیر معجل لڑکی کو ابھی تک ادا نہیں کیے گئے ہیں۔ براہِ کرم یہ واضح فرما دیں کہ چونکہ بچی کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تو کیا لکھوائے گئے مہر کے ڈھائی تولے زیورات میں جو کمی ہے اس کو رخصتی سے پہلے پورا کرنا ضروری ہوگا ؟ کیا مہر غیر معجل دو لاکھ روپے رخصتی سے پہلے دینے ہوں گے یا جب کبھی بعد میں بھی دیئے جا سکتے ہیں یا خاتون کے تقاضا کرنے پر دیئےجائیں گے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جس طرح نکاح کے بعد عورت پر مرد کے حقوق ثابت ہو جاتے ہیں ،اسی طرح عورت کا حق بھی شوہر اور حقِ مہر پر ثابت ہو جاتا ہے ، لہذا مہر کی مقررہ وہ مقددار جو معجل ہو، اس کی ادائیگی شوہر پر نکاح کے بعد فوراًلازم ہو جاتی ہے ،چنانچہ مذکور لڑکی کو مہرِ معجل کی مد میں دیا گیا زیور اگر مہرِ معجل کی مقررہ مقدار ہے کم ہو، تو رخصتی سے قبل شوہر کے ذمہ اس کمی کو پورا کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر میاں بیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے اسے کچھ تاخیر سے دینا طے پا جائے ، تو ایسی صورت میں اس مقدار کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کی بھی گنجائش ہوگی ، جبکہ مہر کی وہ مقدار جو مؤجل ہو، اس کی ادائیگی بیوی کے مطالبہ پر موقوف ہوگی، چنانچہ بیوی کے مطالبہ کے وقت شوہر پر اس کی ادائیگی لازم ہو گی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: وإن بينوا قدر المعجل يعجل ذلك، وإن لم يبينوا شيئا ينظر إلى المرأة وإلى المهر المذكور في العقد أنه كم يكون المعجل لمثل هذه المرأة من مثل هذا المهر فيجعل ذلك معجلا ولا يقدر بالربع ولا بالخمس وإنما ينظر إلى المتعارف، وإن شرطوا في العقد تعجيل كل المهر يجعل الكل معجلا ويترك العرف، كذا في فتاوى قاضي خان ، ولو باعها بالمهر متاعا فلها أن تمنع نفسها منه حتى تقبض المتاع وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - وإذا قبضت المهر فإذا هو زيوف أو دراهم لا تنفق فلها أن تمنع نفسها منه حتى يبدلها ولو كان دخل بها برضاها ثم وجدت المهر المقبوض زيوفا أو ما أشبه ذلك أو كان متاعا اشترت منه وقبضته فاستحق بعدما دخل بها؛ فليس لها أن تمنع نفسها منه، كذا في المحيط.في المنتقى إذا كان المهر حالا فأحالت عليه غريما لها بالمهر فلها أن تمنع نفسها منه حتى يأخذ غريمها المهر ولو كان الزوج أحالها بالمعجل على غريم له على إن أبرأته من المهر ففي الاستحسان ليس له أن يدخل بها حتى تأخذ المهر هكذا في الذخيرة.وإذا كان المهر مؤجلا أجلا معلوما فحل الأجل ليس لها أن تمنع نفسها لتستوفي المهر على أصل أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى، كذا في البدائع. تزوج امرأة على ألف إلى سنة فأراد الزوج الدخول بها قبل السنة قبل أن يعطيها شيئا فإن شرط الزوج الدخول بها في العقد قبل السنة فله ذلك وليس لها المنع عنه بلا خلاف، كذا في جواهر الأخلاطي، وإن لم يشترط قال محمد - رحمه الله تعالى - له ذلك كالبيع وبه كان يفتي الإمام الأستاذ ظهير الدين وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - ليس له ذلك وبه كان يفتي الصدر الشهيد، كذا في الخلاصة.ولو شرط عليها أن يدخل بها قبل إيفاء المعجل صح الشرط ولو كان المهر مؤجلا ثم عجل عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لها أن تمنع، كذا في العتابية. ولو كان بعضه عاجلا وبعضه آجلا فاستوفت العاجل وكذلك لو أجلته بعد العقد مدة معلومة ليس لها أن تحبس نفسها وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لها أن تحبس نفسها إلى استيفاء البدل عند الأجل، كذا في شرح الجامع الصغير لقاضي خان اھ(کتاب النکاح ج 1 صـ 318 ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (ولها منعه من الوطء) ودواعيه شرح مجمع (والسفر بها ولو بعد وطء وخلوة رضيتهما) لأن كل وطأة معقود عليها، فتسليم البعض لا يوجب تسليم الباقي (لأخذ ما بين تعجيله) من المهر كله أو بعضه (أو) أخذ (قدر ما يعجل لمثلها عرفا) به يفتى، لأن المعروف كالمشروط (إن لم يؤجل) أو يعجل (كله) فكما شرط لأن الصريح يفوق الدلالة إلا إذا جهل الأجل جهالة فاحشة فيجب حالا غاية، إلا التأجيل لطلاق أو موت فيصح للعرف بزازية. وعن الثاني لها منعه إن أجله كله وبه يفتى استحسانا الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 143-144 ط: سعید)
وفی بدائع الصنائع: ويجب عقيب العقد بلا فصل لما ذكرنا أنه يجب بإحداث الملك، والملك يحدث عقيب العقد بلا فصل؛ ولأن المعاوضة المطلقة تقتضي ثبوت الملك في العوضين في وقت واحد وقد ثبت الملك في أحد العوضين وهو البضع عقيب العقد (إلی قولہ) وإذا طالبت المرأة بالمهر يجب على الزوج تسليمه أولا؛ لأن حق الزوج في المرأة متعين، وحق المرأة في المهر لم يتعين بالعقد، وإنما يتعين بالقبض فوجب على الزوج التسليم عند المطالبة ليتعين كما في البيع أن المشتري يسلم الثمن أولا، ثم يسلم البائع المبيع إلا أن الثمن في باب البيع إذا كان دينا يقدم تسليمه على تسليم المبيع ليتعين، وإن كان عينا يسلمان معا وههنا يقدم تسليم المهر على كل حال، سواء كان دينا أو عينا؛ لأن القبض والتسلم ههنا معا متعذر ولا تعذر في البيع، وإذا ثبت هذا فنقول: للمرأة قبل دخول الزوج بها أن تمنع الزوج عن الدخول حتى يعطيها جميع المهر ثم تسلم نفسها إلى زوجها، وإن كانت قد انتقلت إلى بيت زوجها لما ذكرنا أن بذلك يتعين حقها فيكون تسليما بتسليم، ولأن المهر عوض عن بضعها كالثمن عوض عن المبيع وللبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن فكان للمرأة حق حبس نفسها؛ لاستيفاء المهر الخ (کتاب النکاح ج 2 صـ 288 ط: دار الکتب العلمیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69842کی تصدیق کریں
0     2172
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تجدیدنکاح کی صورت میں بیان کردہ مہر کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   مہر 1
  • رخصتی سے قبل طلاق ہوجانے کی صورت میں حق مہر کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • نکاح نامہ میں "خصوصی شرائط "کے خانے میں لکھے ہوئے سونے کی حیثیت

    یونیکوڈ   مہر 3
  • خاوند کا واپسی کی صراحت کیساتھ بیوی کا مہر اور سامانِ جہیزفروخت کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • عورت کے انتقال پر مہر اور بوقتِ رخصتی دئے جانے والے تحائف کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر کی عدم ادائیگی پر شوہر کو نقل مکانی سے روکنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں مہر کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 1
  • دلہن کو شادی پر دیے ہوئے سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • نکاح نامہ میں , مہر سے ہٹ کر بعنوان گفٹ, لکھی گئی اشیاء کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر کی ادائیگی کے بغیر رخصتی کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • شادی پر دئیے ہوئے سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر مقرر کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   مہر 0
  • داماد سے جدائی لینے کی صورت میں حق مہر کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • بیوی کے مطالبۂ طلاق کی صورت میں مہرِ مؤجل کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • بیوی کا, حق مہر ایک بار معاف کردینے کے بعد پھر مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • طلاق کے بعد شوہر کے لیے زیورات کی واپسی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مجلس نکاح میں حق مہر کا ذکر نہ کرنا

    یونیکوڈ   مہر 1
  • لڑکی والوں کی طرف سے شادی میں نامعقول شرائط لگاکر رخصتی میں تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • بیوی سے زبردستی مہر معاف کروانا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • قسطوں میں مہر ادا کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مہر 0
  • غیر مؤجل حق مہر کی ادائیگی سے پہلے ہمبستری کرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر کی کم از کم مقدار کیا ہے؟

    یونیکوڈ   مہر 0
  • مہر میں اختلاف کی صورت میں کونسا مہر لازم ہوگا؟

    یونیکوڈ   مہر 0
  • طلاق کے وقت حق مہرسے دستبرداری کے باوجودشوہرکاحق مہراداکرنا

    یونیکوڈ   مہر 0
  • پانچ وقت کی نماز کی پابندی کو حق مہر مقرر

    یونیکوڈ   مہر 0
Related Topics متعلقه موضوعات