زکوۃ و نصاب زکوۃ

سیونگ کی ہوئی رقم اور بچے کی خاطر رکھے گئے سونے پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
69537
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سیونگ کی ہوئی رقم اور بچے کی خاطر رکھے گئے سونے پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ! مجھے سعودیہ سے رٹائرمنٹ پر کچھ پیسہ ملا جوکہ میں نے سعودیہ میں اپنے بیٹے کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھوایا ، تاکہ روپے کی قدر کی کمی سے بچا جاسکے ،اور اس میں سے بوقت ضرورت میرا بیٹا مجھے بھیجتا رہتا ہے میرا ابھی پاکستان میں کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہیں ، ماہانہ خرچہ بھی بچے بھیجتے رہتے ہیں ، میں نے اس رقم میں سے کچھ پیسہ چھوٹے بچے کی پڑھائی مکمل کرنے تک مخصوص کیا ہے بقیہ پیسہ بھی نصاب سے زیادہ ہے تو مجھے گائیڈ کریں ، کہ کیا اس پر زکوۃ دینی پڑیگی ؟ اس کے علاوہ سب سے چھوٹے بیٹے کی شادی کا 5 تولہ سونابھی اپنی بیوی کے زیور کے علاوہ رکھا ہے ، کیا اس پر زکوۃ ہوگی ؟ جبکہ بیوی کے زیور نصاب سے کم ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملی ہوئی جو رقم روپیہ کی قدر کی کمی سے بچنے کی خاطر سعودیہ میں اپنے بیٹے کے کرنٹ اکاؤنٹ میں بطور امانت رکھی ہو ، اسی طرح سائل نے چھوٹے بیٹے کی تعلیم و شادی کے لئے مخصوص کردہ سونا و رقم اگر بیٹے کو باقاعدہ مالک بنا کر اس کے قبضہ میں نہ دیا ہو ، بلکہ مستقبل میں اسے یہ سونا حوالے کرنے اور یہ رقم تعلیمی اخراجات کی مد میں دینے کاارادہ کیا ہو ، تو ایسی صورت میں اکاؤنٹ میں موجود رقم اور بچے کی تعلیم کے لئے مخصوص کردہ رقم اور سونا دونوں سائل کی ملکیت ہیں ، لہذا اس پر سال گزر نے کے بعد یہ تمام اموال دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ شامل کرکے مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا ۔
البتہ سائل کی بیوی کے پاس موجود سونا اگر بیوی کی ذاتی ملکیت ہو اور اس کے پاس اس سونے کے علاوہ دیگر اموالِ زکوۃ جیسے چاندی ، مال تجارت ، ضرورت سے زائد کیش رقم ( خواہ معمولی مقدار میں کیوں نہ ہو ) موجود نہ ہو تو محض اس سونے پر ( مقدار نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے ) زکوۃ لازم نہ ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار تحت ( قولہ : وفسرہ ابن الملک ) ( الی قولہ ) فالاولیٰ التوفیق بحمل ما فی البدائع و غیرھا ، علی ما اذا امسکہ لینفق منہ کل ما یحتاجہ فحال الحول و قد بقی معہ منہ نصاب فانہ یزکی ذلک الباقی و ان کان قصدہ الانفاق منہ ایضا فی المستقبل لعدم استحقاق صرفہ الی حوائجہ الاصلیۃ وقت حولان الحول ( الی قولہ ) و کذا ما سیاتی فی الحج من انہ لوکان لہ مال و یخاف العزوبۃ یلزمہ الحج بہ اذا خرج اھل بلدہ قبل ان یتزوج ، و کذا لو کان یحتاجہ لشراء دار او عبد الخ ( ج 2 صـــــ 263 کتاط الزکاۃ ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع : و لان وجوب الزکاۃ یعتمد الملک دون الید بدلیل ابن السبیل فانہ تجب الزکاۃ فی مالہ و ان کانت یدہ فائتۃ لقیامہ ملکہ و تجب الزکاۃ فی الدین مع عدم القبض و تجب فی المدفون فی البیت فثبت ان الزکاۃ وظیفۃ الملک و الملک موجود فتجب الزکاۃ فیہ الخ ( ج 2 صـــــ 9 کتاب الزکاۃ فصل و اما الشرائط التی ترجع الی المال ط : ایچ ایم سعید ) ۔
و فی الھندیۃ : و تضم قیمۃ العروض الی الثمنین و الذھب و الفضۃ قیمۃ الخ ( ج 1 صـــــــ 179 کتاب الزکاۃ ط : ایچ ایم سعید ) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69537کی تصدیق کریں
0     749
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات