زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ سے قرضہ جات کی ادائیگی کی ایک صورت

فتوی نمبر :
69290
| تاریخ :
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ سے قرضہ جات کی ادائیگی کی ایک صورت

السلام علیکم بھائی ! میرے دوست کے پاس بائیس لاکھ تھے ، بائیس لاکھ میں سے پانچ لاکھ بھائی کے دینے ہیں ، ڈیڑھ لاکھ بہن کے دینے تھے جو دے دیے ہیں ، لیکن یہ پیسے اس کے پاس ایک سال تک رہے ہیں ، ساڑھے تین لاکھ فرید (دوست ) کے دینے ہیں ، چھ لاکھ اپنی بچی کی فیس دینی ہے،ڈھائی لاکھ فیس اس سال جمع کروادی ہے ( یہ رقم بھی اس کے پاس ایک سال تک رہی ہے ) اور پانچ لاکھ فیس اگلے دو سال میں جمع کروانی ہے ، اس کے پاس جو اپنے باقی ہیں وہ پانچ لاکھ ہیں ، جو اس نے کام میں لگا رکھے ہیں ، ان سب حالات میں اس پر کتنی زکوٰۃ فرض ہے ؟ بتا دیجیے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کا مذکور دوست اگر پہلے سے صاحبِ نصاب اور اس کی ادائیگئی زکوٰۃ کی تاریخ مقرر ہو یا صاحبِ نصاب بننے کے بعد اس رقم پر قمری سال مکمل ہوچکا ہو تو ادائیگئی زکوٰۃ کے مقررہ وقت پر سابقہ واجب الادا قرض اور بچی کی واجب الادا اسکول فیس کے بقدر رقم منہا کرنے کے بعد اس کے ذمہ بقیہ رقم پر ڈھائی فیصد کے حساب سے ادائیگی لازم ہے ، جبکہ بچی کی اسکول فیس کی مد میں مستقبل میں ادا کی جانے والی رقم اس مجموعی رقم سے منہا کرنا جائز نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : ( و سببہ ) ای سبب افتراضھا (ملک نصاب حولی ) نسبۃ للحول لحولانہ علیہ ( تام ) بالرفع صفۃ ملک ، خرج مال المکاتب ( الی قولہ ) (فارغ عن دین لہ مطالب من جھۃ العباد ) ( الی قولہ ) ( و ) فارغ ( عن حاجتہ الاصلیۃ ) لان المشغول بھا کالمعدوم : و فسرہ ابن ملک بما یدفع عنہ الھلاک تحقیقاً کثیابہ او تقدیرا کدینہ ( نام لو تقدیرا ) بالقدرۃ علی الاستمناء و لو بنائبہ الخ ۔
وفی الرد المحتار تحت ( قولہ : فارغ عن دین ) (الی قولہ) وھذا اذا کان الدین فی ذمتہ قبل وجوب الزکوٰۃ ، فلو لحقہ بعدہ لم تسقط الزکوٰۃ ، لانھا تثبت فی ذمتہ فلا یسقطھا ما لحق من الدین بعد ثبوتھا الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 2 صــ 262 ط : سعید ) ۔
و فی الھدایۃ : و من کان علیہ دین یحیط بمالہ فلا زکوٰۃ علیہ و ان کان مالہ اکثر من دینہ زکی الفاضل اذا بلغ نصاباً بالفراغۃ عن الحاجۃ و المراد بہ دین لہ مطالب من جھۃ العباد حتی لا یمنع دین النذر و الکفارۃ و دین الزکوٰۃ مانع حال بقاء النصاب لانہ ینتقص بہ النصاب و کذا بعد الاستھلاک خلافاً لزفر فیھما و لابی یوسف فی الثانی علی ما روی عنہ لان لہ مطالبا و ھو الامام فی السوائم و نائبہ فی اموال التجارۃ فان الملاک نوابہ الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 1 صــ 202 ط : رحمانیۃ ) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69290کی تصدیق کریں
0     578
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات