السلام علیکم
جناب میرا اجناس کا ایکسپورٹ کا کاروبار ہے۔ آج کل کے حالات کے حساب سے ہماری کرنسی روز بروز ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورت حال میں کیا کسی بینک سے ڈالر ایڈوانس میں بیچنا جائز ہے؟ مثلاً آج میں اگر ایک آرڈر کنفرم کرتا ہو اور کاسٹنگ کرتا ہوں 280 ایک ڈالر کے حساب سے، تو ملکی حالات کے حساب سے جب ایک مہینے بعد میری پیمنٹ موصول ہوگی تو ڈالر 270 تک ہوجائےگا۔ اس صورت میں میرے پاس ایک آپشن ہے کہ میں آج میں یہ ڈالر بینک کو 280 میں بیچ دوں اس کنڈیشن پر کہ یہ پیمنٹ 30 دن میں موصول ہوگی۔ اس طرح مجھے نقصان نہیں ہوگا۔ اور اگر میں یہ نہیں کرتا تو جب مجھے پیمنٹ موصول ہوگی 30 دن بعد تو ڈالر 270 کا ہوجائےگا اور مجھے یقیناً نقصان ہوگا۔ اسے فارورڈ بکنگ بھی کہتے ہے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے ایکسپورٹ آرڈر کے بدلے مستقبل میں موصول ہونے والے ڈالرز کو آج ہی بینک کے ہاتھ موجودہ ریٹ مثلاً 280 روپے فی ڈالر کے حساب سے اس شرط پر فروخت کرکے لاک کردینا کہ اصل ڈالرز کی ایک ماہ بعد ادا ئیگی ہوگی، عرف میں “فارورڈ بکنگ” (Forward Booking) کہلاتا ہے۔ شرعاً اس طریقۂ کار کی اجازت نہیں، کیونکہ کرنسیوں کی باہمی خرید و فروخت میں مجلسِ عقد میں دونوں عوضوں میں سے کم از کم ایک کا قبضہ ضروری ہوتا ہے، جبکہ سوال میں مذکور صورت میں نہ سائل کی طرف سے ڈالرز فوری بینک کے قبضہ میں دیے جاتے ہیں اور نہ ہی بینک کی طرف سے پاکستانی رقم فوراً سائل کے قبضہ میں دی جاتی ہے، بلکہ دونوں جانب ادائیگی مؤخر ہوتی ہے، اور ایسی بیع جس میں ثمن اور مبیع دونوں ادھار ہوں فقہ کی اصطلاح میں “بیع الکالئ بالکالئ” کہلاتی ہے، جو شرعاً ناجائز ہے؛ لہٰذا آئندہ ڈالر کی قیمت کم ہونے کے اندیشے اور ممکنہ نقصان سے بچنے کی غرض سے بھی اس قسم کی فارورڈ بکنگ کرنا جائز نہیں۔
کما فی المستدرك على الصحيحين: 2342 - حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا الربيع بن سليمان، ثنا الخصيب بن ناصح، ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع الكالئ بالكالئ» هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه " وقيل عن موسى بن عقبة عن عبد الله بن دينار
[التعليق من تلخيص الذهبي] على شرط مسلم (کتاب البیوع، وأما حديث معمر بن راشد، ج:2، ص:65، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)
وفی المعاییر الشرعیۃ: 3/2 یحرم الصرف الآجل أیضاً ولو کان لتوقّی انخفاض ربح العملیۃ التی تتمّ بعملۃ یتوقع انخفاض قیمتھا۔
4/2 یحقّ للمؤسسۃ لتوقّی انخفاض العملۃ فی المستقبل اللجوء الیٰ ما یاتی:
1/4/2 اجراء قروض متبادلۃ بعملات مختلفۃ بدون أخذ فائدۃ أو اعطائھا شریطۃ عدم الربط بین القرضین۔
2/4/2 شراء بضائع، أو ابرام عملیات مرابحۃ بنفس العملۃ۔
5/2 یجوز أن تتفق المؤسسۃ والعمیل عند الوفاء بأقساط العملیات المؤجلۃ مثل (المرابحۃ) علیٰ سدادھا بعملۃ أخریٰ بسعر یوم الوفاء۔
’این ،جی، اوز کاغریب و نادار لوگوں یا کسی مصیبت زده و پسماندہ علاقہ کے باشندوں کی مدد کرنا،اور ان کے ساتھ معاونت کرنا
یونیکوڈ 0