(زکوٰۃ کی ادائیگی میں مالی مشکلات )
میں پچھلے چار سالوں سے بے روزگار ہوں, دو سال پہلے میں نے ایک نیا کاروبار شروع کیا تھا لیکن یہ بھی اب تک خسارے میں ہے, مجھے مالی مشکلات کا سامنا ہے, میرے پاس آمدنی کے کچھ دیگر ذرائع ہیں جن میں جائیدادو ں سے کرائے کی آمدنی بھی شامل ہے , لیکن یہ شاید ہی میرے خاندان کے اخراجات کو پورا کرتی ہے,مجھے اس سال کافی زکوٰۃ کی رقم ادا کرنی ہے جس میں سے میں نے واجب الادا زکوٰۃ کا 20 فیصد ادا کر دیا ہے , مجھے اپنے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ڈر ہے کہ میں زکوٰۃ کی بقیہ واجب الادا رقم ادا نہیں کر سکوں گا,کیا آپ مجھے مشورہ دے سکتے ہیں کہ اگر میں اس سال زکوٰۃ کی بقیہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہوں تو کیا میں گناہگار ہو نگا؟
سائل پراگرزکوٰۃ لازم ہوچکی ہو ،یعنی قرضے وغیرہ منہا کرنے کے بعد اگر اس کی ملکیت میں نصاب کے بقدر اموالِ زکوٰۃ (سونا چاندی ،مال تجارت اور نقدی) موجود ہوں تو سائل پر اپنی زکوٰۃ ادا کرنا شرعاً لازم ہے،تاہم اگر مالی مشکلات کی وجہ سے فی الفور زکوٰۃ کی ادائیگی ممکن نہ ہو تو سال پورا ہونے سے پہلے پہلے جتنی جلدی ممکن ہو اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوشی کی فکر کرے،البتہ ایک سال سے زائد تاخیر کرنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ اس کی وجہ سے سائل گناہ گار ہوگا ،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ : و تجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر ، و في رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت ، و الأول أصح كذا في التهذيب اگ(1/170)۔
و فی الھدایۃ : الزکوٰۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا ملک نصابا ملکا تاما وحال علیہ الحول اھ(1/22)-