زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر کسی کے پاس بطورِ امانت رکھوائی گئی زکوٰۃ کی رقم چوری ہو جائے تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟

فتوی نمبر :
67769
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر کسی کے پاس بطورِ امانت رکھوائی گئی زکوٰۃ کی رقم چوری ہو جائے تو زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟

ترجمہ:اگر کسی کے پاس امانۃً سونا رکھوایا، اور اسکے گھر پر ڈکیتی کی وجہ سے وہ سونا چوری ہو گیا، تو اسکا کیا حل ہے؟جب کہ جسکے پاس سونا رکھوایا گیا ہے وہ غریب ہے، اسی طرح زکوٰۃ کی رقم کسی نے دی تھی کہ یہ کسی مستحقِ زکوٰة کو اداء کر دیں، وہ رقم بھی چوری ہو جائے تو کیا زکوٰة اداء ہو جائیگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہواس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو جس شخص کے پاس سونا"امانۃًرکھوایا گیا تھا اور کسی کو دینے کیلئے زکوٰة کی رقم رکھوائی گئی تھی، اگر اس نےسونے اور زکوۃ کی رقم کی حفاظت میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لیا ہو بلکہ اپنے ذاتی مال کی طرح اسے حفاظت سے رکھا ہو لیکن گھر میں ڈاکہ زنی کیوجہ سے وہ سونا اور زکوٰۃ کی رقم چوری ہو گئی ہو تو مذکورشخص کے ذمہ"ضمان"لازم نہ ہوگا،اور زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ بھی اداء نہ ہو گی، بلکہ اسکے ذمہ دوبارہ کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ دینا لازم اور ضروری ہو گا۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال اسکی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ "ای میل" کر دیں،اس پر غوروفکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:و لا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء اھ(2/270)
و فی ردالمحتار:(قوله:و لا يخرج عن العهدة بالعزل)فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة اھ(2/270)
فی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:الأمانة غير مضمونة. يعني على تقدير هلاكها أو ضياعها بدون صنع الأمين و تقصيره و لا يلزم الضمان.(الی قولہ)يعني إذا هلكت الأمانة أو فقدت أو طرأ نقصان على قيمتها في يد الأمين بدون صنعه و تعديه و تقصيره في الحفظ لا يلزم الضمان على الأمين المذكور،سواء أهلكت بسبب ممكن التحرز منه كالسرقة أم بسبب غير ممكن التحرز منه كالحريق الغالب و سواء أهلك مال الأمين مع الأمانة المذكورة أم لم يهلك و سواء أشرط الضمان أم لم يشرط راجع شرح المادة(٨٣)۔(2/235)
و فی البحر الرائق:و في الفتاوى رجلان دفع كل واحد منهما زكاة ماله إلى رجل ليؤدي عنه فخلط مالهما ثم تصدق ضمن الوكيل(الی قولہ)فإذا ضمن في صورة الخلط لا تسقط الزكاة عن أربابها فإذا أدى صار مؤديا مال نفسه كذا في التجنيس(2/227)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67769کی تصدیق کریں
1     1190
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات