ترجمہ: السلام علیکم! ایک لڑکی نے 10 سال سے زکوٰۃنہیں دی،لیکن اب وہ دیناچاہتی ہے،اسکے پاس کل 35 تولہ سونا ہے،تو اب تک ٹوٹل 10 سال کی ملا کر کتنی زکوٰۃ اس پر ہوتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں دس تولہ سونا اگر مذکور لڑکی کی ذاتی ملکیت ہو تو جتنے سالوں کی زکوۃ اس نے ادا نہیں کی، اس کے ذمہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم اور ضروری ہے، جسکا طریقہ کار یہ ہے کہ مذکور لڑکی یا تو دس تولہ سونے میں سے ہر سال کی زکوٰۃ کے بدلے چالیسواں حصہ ادا کرتی رہے، یا سونے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کےاس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے گزشتہ پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، اس کے بعد اگلے سال کی زکوۃ نکالتے وقت پہلے سال کی زکوۃ کی مقدار (ڈھائی فیصد) کو بقیہ مال سے منہا کرکے حساب لگا کر دوسرے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، پھر اس سے اگلے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دوسالوں کی زکوۃ کی مقدار کو منہا کرکے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح حساب کر کے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔
کمافی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {وآتوا الزكاة} [البقرة: ٤٣] ولقوله صلى الله عليه وسلم " أدوا زكاة أموالكم " وعليه إجماع الأمة اھ(1/95)
فی بدائع الصنائع: لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنااھ(2/22)