کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ ’’نورک سلیمان خیل تحصیل گلستان‘‘ جو سات گاؤں پر مشتمل ہے، ۲۰۱۷ مردم شماری کے مطابق آبادی تقریباً دس ہزار ہے، عرفاً بھی یہ آبادی ایک نام سے موسوم کی جاتی ہے، آبادی سے متصل ایک بازار ہے جس میں تقریباً سو کے قریب دو طرفہ دکانیں ہیں، ضروریاتِ روزمرّہ کی تمام اشیاء ہر وقت دستیاب ہوتی ہیں۔
نیز اس علاقے میں ایک سرکاری ہسپتال اور چار کلینک ومیڈیکل موجود ہیں ، ہمارے علاقے میں باقاعدہ پولیس تھانہ نہیں، جبکہ علاقہ کے لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی ( جرگہ پنچائیتی نظام) بھی موجود ہے، جو کہ علاقہ کی تنازعات و دیگر مسائل کو حل کرتی ہے ، علاقہ کی سڑکیں پختہ اور بجلی کی سہولیات بھی موجود ہیں ، تین مدارس، ایک ہائی سکول اور چار پرائمری سکول موجود ہیں ، علاقے کے بعض مقامی علماء ِکرام کا کہنا ہے کہ یہاں پولیس تھانہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ واجب نہیں اور بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جمعہ جائز تو ہے، لیکن واجب نہیں ، اگر کوئی جمعہ کی نماز پڑھے تو ٹھیک، ورنہ گناہ گار نہیں۔
اب سوال یہ ہے کے اس علاقے میں جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ کیا جمعہ کے لۓ پولیس چوکی شرط ہے یا نہیں؟ براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ: ہمارے پاس جمعہ کے وجوب کے حوالے سے جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن، دارالافتاء ربانیہ، جی ، او، آر کالونی کوئٹہ کا فتویٰ بھی موجود ہے۔
سوال میں درج تفصیل ، منسلکہ فتاویٰ جات اوربعض مستند اہلِ فتویٰ حضرات کے ذاتی مشاہدہ و معائنہ اور علاقائی عرف کی روشنی میں واضح ہے کہ ’’نورک سلیمان خیل ‘‘میں قریہ کبیرہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں اور علاقہ حکومتی عملداری میں ہونے کے علاوہ قطع خصومات کے لۓ وہاں پر باقاعدہ ایک پنچائتی کمیٹی بھی قائم ہے جو بوقتِ ضرورت پولیس طلب کر سکتی ہے، لہٰذا فقہاءِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی آرا ء کی روشنی میں مذکور گاؤں کے اندر جمعہ وعیدین کا قیام واجب ہے، بلا وجہ محض شکوک وشبہات کو بنیاد بناکر اس میں رکاوٹیں ڈالنے سے احتراز لازم ہے۔
في حاشية ابن عابدين: (قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات اھ(2/ 138)۔
وفی البدائع ، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الامام جامعاً ونصب من يصلى بهم الجمعة، و في رواية لوكان في القریة عشرة آلاف أو اكثر أمرتهم باقامة الجمعة فيها اھ ( ۱/۲۶۰ )۔