کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں جمعہ کی نماز عرصہ دراز سے نہیں ہوئی ، پہلے گاؤں میں سہولیات نہیں تھیں ، لیکن اب سہولیات میسر ہیں ، جن میں روڈ اور ہر طرح کی گاڑی کا چلنا شامل ہے ، پہلے ہمارے گاؤں میں صرف ایک گاڑی ( صرف جیپ ) ہی جاسکتی تھی ، اب ہر طرح کی گاڑیاں جاسکتی ہیں ۔
گاؤں کی آبادی ۱۰۰ گھرانے ، سول ڈسپنسری ایک عدد ، بازار ۲۷ کلو میٹر دور ہے اور بازار تک ہر طرح کی گاڑی بہ آسانی جاتی ہے ، ڈاکخانہ ۲۷ کلو میٹر پر ہے ، پولیس چوکی ۹ کلو میٹر پر ہے ، عدالت ۲۷ کلو میٹر پر ہے ، اسکول دو ہیں اور دونوں میں میٹرک تک کی تعلیم ہے۔
مسجد کا ایڈر یس: ضلع مانسہرہ تحصیل اوگی یو سی کروڑی گاؤں چمبال پھائیں ، براہِ کرم اس مسئلہ کے متعلق راہ نمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ احناف کے ہاں گاؤں میں نمازِ جمعہ قائم کر نادرست نہیں ، جمعہ کی صحت کے لۓ شہر یا قصبہ کا ہونا ضروری ہے ، جبکہ قصبہ کی تعریف ہمارے ہاں یہ ہے کہ جہاں آبادی چار ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ ہو اور ایسا بازار موجود ہو جس میں دکانیں چالیس، پچاس متصل ہوں، اور بازار روزانہ لگتا ہو، اور اس بازار میں ضروریاتِ روز مرّہ کی تمام اشیاء ملتی ہوں ، مثلاً جوتے کی دکان بھی ہو، اور کپڑے کی بھی ، عطّار کی بھی ہو، بزّار کی بھی ، غلہ کی بھی ہو اور دودھ، گھی کی بھی اور وہاں ڈاکٹر ، حکیم بھی ہوں وغیرہ وغیرہ ، اور وہاں ڈاکخانہ بھی ہو اور پولیس کا تھانہ یا چو کی بھی ، اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں، بس جس بستی میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ صحیح ہو گا ورنہ صحیح نہیں ہو گا۔
لہٰذا سوال میں مذکور گاؤں میں چونکہ مندرجہ بالا شرائطِ جمعہ نہیں پائی جاتی ہیں، اس لۓ وہاں جمعہ قائم کر نادرست نہیں ۔
فی حاشية ابن عابدين: (قوله وظاهر المذهب إلخ) قال في شرح المنية. والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ (2/ 137)۔
وفیها أیضاً: (قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني : تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس اھ (2/ 138)۔