السلام علیکم
کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اندریں مسئلہ کے بارےمیں کہ
کسی چیز کو فروخت کرنے پر زید کو کافی مقدار میں رقم حاصل ہوئی ، زید نے حاصل شدہ رقم سے وقتی ضرورت پورا کرنے کے بعد پیسہ کے Devalue ہونے کے اندیشہ کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی ماندہ رقم سے کوئی دوسری چیز(مثلا زمین، مکان، دوکان، گھر، گاڑی) خرید لی اور اسے کرایہ پہ چڑھا دیا , زید کو کرایہ پہ لگی ہوئی چیز کے بارے میں کنفرم نہیں کہ اس کو کب سیل کرنا ہے یا کیسے سیل کرنا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ زید پر باقی ماندہ رقم سے خریدی ہوئی چیز پہ زکوٰۃ کیسے ادا ہو گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ خریدی ہوئی چیز کی مالیت پہ زکواۃ فرض ہو گی یا اس چیز سے حاصل ہونے والا کرایہ زکوٰۃ کی مالیت میں شامل ہو گا ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور کرایہ کی چیز کی مالیت پر تو زکوۃ لازم نہیں،البتہ اگر کرایہ کی رقم بچتی ہو تو دیگر اموالِ زکوۃ کے ساتھ اس رقم کی پر بھی زکوۃ لازم ہے-