السلام علیکم!
واجب الاحترام مفتی صاحب! میں نے اور میرے بھائی نے مل کر ایک پلاٹ خریدا تھا، زیادہ تر ارادہ بیچنے کا تھا، اور گھر تعمیر کر کے رہنے کا ارادہ بہت کم تھا، ایک دو سال بعد اس میں ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا، اور جس سے خریدا تھا، وہ لوگ آجکل کر کے ٹال مٹول کر رہے تھے، معلومات لینے پر معلوم ہوا کہ اس ٹاؤن شپ میں اور بھی کئی لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، کیس نیب میں چل رہا ہے، ہم نے بھی نیب میں درخواست جمع کر وا دی ان کے خلاف، اب نیب میں معلوم نہیں کیس حل بھی ہوتا ہے یا نہیں ، اور یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے پیسے واپس بھی ہمیں ملیں گے یا نہیں،دریافت یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں ہم پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟جزاکم اللہ خیرا۔
نوٹ:سائل کا کہنا ہے کہ فائل بھی دی تھی اس میں فائل نمبر ، پلاٹ نمبر،اور بلاک وغیرہ بھی درج تھا،اور پروجیکٹ کا نقشہ بھی بنا ہوا تھا،دھوکہ دہی کے بارے میں معلومات نہیں کہ فائلیں زیادہ افراد پر فروخت کی ہیں یا زمین غیر قانونی تھی،جس پراپرٹی والے سے ہم نے پلاٹ خریدا تھا وہ تقریباً دو سال تک تو پیسوں کی واپسی پر ٹال مٹول کرتا رہا ،پھر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس ٹاؤن شپ میں فراڈ ہوا ہے اور کیس نیب میں چل رہا ہے ،تو ہم نے بھی نیب میں درخواست جمع کروا دی کہ ہم سے بھی فلانے پراپرٹی والے نے پیسے لیے ہیں، اور جن لوگوں سے پیسے حاصل کیے ہیں ان کو ہم نہیں جانتے۔
صورتِ مسؤلہ میں مذکور پروجیکٹ مالکان نے اگر سائل سمیت دیگر خریداروں کو باقاعدہ متعین پلاٹ الاٹ نہ کیے ہوں ، بلکہ محض فائل حوالہ کرکے اس کے بدلے لوگوں سے سرمایہ وصول کیا ہو ، تو ان کا یہ معاملہ شرعاً درست نہیں تھا،بلکہ فائل کے بدلے دی گئی رقم ہی ان کے ذمہ واجب الادا ہے ،لہذا سائل کے صاحب ِ نصاب ہونے کی صورت میں مذکور پلاٹ کے بدلے دی ہوئی رقم پر گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی،تاہم اس کی ادائیگی اس رقم کے ملنے کے بعد لازم ہوگی،اس لئے اس رقم میں سے جب بھی نصاب زکوٰۃ ( ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت)کے پانچویں حصے (%20) کے بقدر رقم مل جائے ، تو اس میں ڈھائی فیصد کے حساب سے گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی الدر المختار : (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض اربعین درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم اھ (2/305)۔
وفی بدائع الصنائع : وجملة الكلام في الديون انھا على ثلاث مراتب في قول ابی حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا اما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، او غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه الا انہ لا يخاطب بأداء شیء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا اھ (2/10)۔واللہ اعلم