السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مہربانی فرما کر ان لوگوں کے متعلق فتویٰ دیجیے جو حدیث کی اس حیثیت سے انکار کرتے ہیں کہ وہ اسلامی قانون اور عقیدے کا قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ اور براہِ کرم غلام احمد پرویز کے متعلق بھی فتویٰ دیجیے اور اس موضوع پر اردو یا انگریزی کی اچھی سی کتاب یا کسی انٹرنیٹ کا حوالہ بھی دیجیے۔
واضح ہو کہ باتفاقِ امتِ مسلمہ قرآن کریم کے بعد اسلامی قانون اور احکام ِشرعیہ کا قابلِ اعتماد ذریعہ احادیثِ مبارکہ ہے، بلکہ درحقیقت احادیث کےبغیر نہ تو قرآن کما حقہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس پر عمل ممکن ہے۔ بالفاظِ دیگر احادیث کا انکار قرآن کریم کا انکار ہے جو کہ کھلی ضلالت اور گمراہی ہے۔
جبکہ غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکار ایک طرف احادیث کا انکار کرتے ہیں اور دوسری طرف قرآن کریم کے بہت سارے احکام نماز، روزہ اور حج وغیرہ کے ایسے معانی اور تشریح بیان کرتے ہیں جو کہ صریح تحریفِ قرآن کے زمرے میں داخل ہیں، لہٰذا غلام احمد پرویز اور اس کے پیروکار اپنے غلط عقائد اور نظریات کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
اس موضوع پر درج ذیل کتابوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:
۱۔ The Authorty of sunnah (انگریزی)
۲۔ حجیت حدیثِ (اردو)
مذکورہ بالا دونوں کتابیں مفتی تقی عثمانی صاحب کی ہیں۔
۳۔ کتابت ِحدیث عہدِ رسالت و عہدِ صحابہ میں (از مفتی رفیع عثمانی صاحب)
۴۔ انکارِ حدیث کے نتائج (از مولانا شیخ الحدیث محمد سرفراز خان صفدرؒ صاحب)
۵۔ تدوینِ حدیث۔ (از مولانا مناظر احسن گیلانیؒ صاحب)
۶۔ فتنہ انکارِ حدیث۔ (متفقہ فتویٰ جمیع علماء)
۷۔ فتنہ انکارِ حدیث۔ ( مؤلّفہ مفتی رشید احمد لدھیانویؒ صاحب)
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى، إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى﴾ (النجم: 3، 4)
و فی أحكام القرآن للجصاص: ﴿قال الله تعالى أطيعوا الله وأطيعوا الرسول﴾
وقال تعالى: ﴿وما أرسلنا من رسول إلا ليطاع بإذن الله وقال تعالى من يطع الرسول فقد أطاع الله﴾وقال تعالى فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما فأكد جل وعلا بهذه الآيات وجوب طاعة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأبان أن طاعته إطاعة الله وأفاد بذلك أن معصيته معصية الله الخ(3/ 180) والله أعلم!